WE News:
2026-07-24@14:50:23 GMT

عروہ حنین آکسفورڈ یونین کی پہلی فلسطینی صدر منتخب

اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT

عروہ حنین آکسفورڈ یونین کی پہلی فلسطینی صدر منتخب

فلسفہ، سیاست اور معاشیات کی طالبہ عروہ حنین الرئیس کو آکسفورڈ یونیورسٹی کے طلبہ کے زیر انتظام آکسفورڈ یونین کا صدر منتخب کرلیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: صیہونی افواج کے ہاتھوں ماری جانے والی 10 سالہ راشا کی وصیت پر من و عن عمل کیوں نہ ہوسکا؟

عروہ ٹرِنٹی ٹرم 2026 (اپریل سے جون) کے دوران اس عہدے پر فائز رہیں گی۔ یہ سنہ 1823 میں قائم ہونے والی آکسفورڈ یونین کی 202 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کوئی فلسطینی طالبہ نے یہ اعزاز حاصل کیا ہو۔

 ان کے والد، محمد الرییس نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ان کی بیٹی پہلی عرب خاتون، فلسطینی اور الجزائری ہیں جو اس عہدے پر منتخب ہوئی ہیں۔

انتخابی مقابلہ اور ووٹوں کی تفصیلات

انتخابی مقابلہ سخت تھا اور عروہ نے 757 ووٹ حاصل کیے جو رنراپ لیزا بارکوا سے 155 ووٹ زیادہ تھے۔

آکسفورڈ یونین کی اہمیت

آکسفورڈ یونین دنیا کی معروف طلبہ زیر انتظام مباحثہ سوسائٹیز میں سے ایک ہے۔ یہ عالمی اہمیت کے معاملات پر اعلیٰ سطح کے مباحثے کے انعقاد کے لیے مشہور ہے جیسے حال ہی میں بھارت اور پاکستان کے تعلقات پر مباحثے میں بھارتی وفد کے اچانک انخلا کے بعد پاکستانی ٹیم کی جیت۔

صدر کے منشور اور ترجیحات

عروہ نے صدر بننے کے لیے اس پلیٹ فارم پر انتخاب لڑا کہ یونین کی اندرونی سیاست کو مباحثوں سے الگ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹرم میں گورننس کے مسائل یونین کے اصل مباحثوں پر حاوی ہو گئے ہیں۔

انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ یونین ایک نہایت خاص جگہ ہے جو مشکل وقت سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں شفاف گورننس، مالی ذمے داری اور آزادی اظہار کے آخری قلعے کے طور پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے ایک نیا آغاز کرنا ہوگا۔

عروہ کی حریف بارکوا نے کہا کہ یونین کو خصوصاً مباحثوں سے اسپیکرز کے اچانک انخلا کے مسائل کے پیش نظر اپنی ساکھ بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

سماجی و سیاسی سرگرمیاں

عروہ نے یونین کے کام کے علاوہ ڈاکومنٹری ’ہارٹ آف اے پروٹیسٹ‘ میں بھی حصہ لیا تھا جو برطانیہ میں فلسطین کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں کی اندرونی جھلک پیش کرتی ہے۔

یونین میں داخلی سیاست کی کشیدگی، پاکستانی صدر کے ساتھ مسائل

آکسفورڈ یونین میں داخلی سیاست بھی کشیدہ رہی ہے جہاں سابق صدور جارج آباراونیے اور موسیٰ حراج کو عدم اعتماد کے ووٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔

موسیٰ حراج، جو پاکستانی ہیں، سنہ 2024 میں منتخب ہونے والے اسرار خان کے بعد ایک سال کے اندر دوسرے پاکستانی طالب علم صدر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

پاکستانی نمائندگی برقرار

پاکستان کی نمائندگی یونین کے اعلیٰ عہدوں میں جاری ہے جس میں ایچیسن کالج کے فارغ التحصیل شاہمیر عزیز سیکریٹری کمیٹی کے رکن ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آکسفورڈ یونین کی پہلی فلسطینی صدر عروہ آکسفورڈ یونین کی پہلی فلسطینی صدر عروہ حنین الرئیس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عروہ حنین الرئیس ا کسفورڈ یونین کی آکسفورڈ یونین کے لیے

پڑھیں:

لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر

سعدیہ زاہدی— تصویر بشکریہ سوشل میڈیا

لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم آئی اے ٹی اے (IATA)، (انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن) کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر ہو گئیں۔

سعدیہ زاہدی یکم نومبر سے اپنی ذمے داریاں سنبھالیں گی۔

سعدیہ زاہدی اس وقت ورلڈ اکنامک فورم (WEF) میں مینیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عالمی فضائی صنعت میں جدت، مضبوطی اور پائیدار ترقی کے لیے کام کروں گی۔

سعدیہ زاہدی سوئس اور پاکستانی شہریت رکھتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • یہودی آبادکاروں اور فلسطینیوں میں جھڑپ؛ اسرائیلی فوج کا میجر اور سپاہی ہلاک
  • بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہوگی؟
  • پاکستانی نژاد سعدیہ زاہدی عالمی ایئرلائنز تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام