آن لائن غصہ بھڑکانے والی اصطلاح : آکسفورڈ نے 2025 کا دلچسپ لفظ چن لیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا بھر میں زبان اور اس کے بدلتے رجحانات کا سب سے معتبر حوالہ سمجھی جانے والی آکسفورڈ ڈکشنری نے 2025 کے لیے جس لفظ کا انتخاب کیا ہے، وہ ایک ایسے رجحان کی نشان دہی کرتا ہے جو آج کی ڈیجیٹل دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ہر سال آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کسی ایسے لفظ کو نمایاں کرتا ہے جو گزشتہ بارہ مہینوں کے ثقافتی، سماجی اور آن لائن رویوں کا آئینہ دار ہو۔ اس بار منتخب ہونے والا لفظ صرف دلچسپ نہیں بلکہ جدید دور کے ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی بھی کرتا ہے، اور وہ لفظ ہے ریج بیٹ۔
ریج بیٹ ایسی اصطلاح ہے جس کا استعمال کسی ایسے آن لائن مواد کے لیے کیا جاتا ہے جسے دانستہ طور پر اس طرح پیش کیا جائے کہ قارئین یا ناظرین کا غصہ بھڑکے، ان میں اشتعال پیدا ہو اور وہ زیادہ سے زیادہ ردعمل دیں۔
یہ مواد اکثر سنسنی خیز، اشتعال انگیز اور متنازع عنوانات پر مبنی ہوتا ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف انگیج منٹ بڑھانا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھمز چونکہ ایسے مواد کو زیادہ پھیلانے کا رجحان رکھتے ہیں جو زیادہ ردعمل پیدا کرے، اس لیے ریج بیٹ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں ایک عام حکمتِ عملی بن چکا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے مطابق رواں برس اس اصطلاح کے استعمال میں 3 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ نہ صرف اس رجحان سے واقف ہیں بلکہ انہیں یہ بھی احساس ہے کہ انہیں خاموشی سے ایسی بحثوں کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جو تنازع کو جنم دیتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس وجہ سے بھی پروان چڑھا ہے کہ سوشل میڈیا الگورتھمز زیادہ بحث و مباحثے اور تناؤ والے مواد کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ اس سے صارف پلیٹ فارم پر زیادہ دیر تک مصروف رہتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف آکسفورڈ ہی نہیں بلکہ تقریباً تمام بڑی ڈکشنریز نے 2025 میں انٹرنیٹ سے جڑی اصطلاحات کو سال کے اہم ترین الفاظ قرار دیا ہے، جس سے یہ حقیقت مزید مضبوط ہوتی ہے کہ جدید زبان اور روزمرہ اظہار پر ٹیکنالوجی کی گرفت پہلے سے کہیں زیادہ گہری ہوچکی ہے۔
کولینز ڈکشنری نے ’وائب کوڈنگ‘ کا انتخاب کیا، جو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ سافٹ ویئر کے انداز کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ کیمبرج نے ’پیرا سوشل‘ لفظ منتخب کیا، جو آن لائن صارفین کی ان Celebrities سے خیالی قربت کو بیان کرتا ہے جن سے وہ حقیقی زندگی میں واقف نہیں ہوتے۔
گزشتہ برس یعنی 2024 میں آکسفورڈ نے ’برین روٹ‘ کو منتخب کیا تھا، جو اس ذہنی کیفیت کی وضاحت کرتا ہے جس میں کوئی فرد مخصوص آن لائن مواد کو زیادہ دیکھنے کے باعث ذہنی تھکاوٹ، بے حسی یا ادراکی کمی کا شکار ہو۔
آکسفورڈ کا کہنا ہے کہ اگر ریج بیٹ اور برین روٹ کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ڈیجیٹل دنیا کا وہ پورا چکر سامنے آجاتا ہے جس میں اشتعال انگیز مواد پہلے تو غصے کو بڑھاتا ہے، پھر الگورتھمز اسے مزید پھیلا دیتے ہیں اور بالآخر اس مسلسل Exposure کے نتیجے میں صارف ذہنی طور پر تھک جاتا ہے۔
اس سال آکسفورڈ کی جانب سے منتخب کیے جانے کے لیے دیگر 2 الفاظ بھی شارٹ لسٹ میں شامل تھے جن میں Aura farming اور Biohack شامل ہیں۔ یہ دونوں الفاظ بھی ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور انسانی رویوں میں آنے والی تبدیلیوں سے جڑے ہیں۔
اس سے پہلے آکسفورڈ نے 2023 میں ’Rizz‘، 2022 میں ’Goblin Mode‘ اور 2021 میں ’Vax‘ کو سال کے الفاظ قرار دیا تھا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سماجی رجحانات کس طرح وقت کے ساتھ بدل رہے ہیں۔
2025ء کے لفظِ سال کے طور پر ریج بیٹ کا انتخاب دراصل ایک تنبیہ بھی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں چلنے والے مباحث ہمیں کس حد تک متاثر کر رہے ہیں اور کیسے ہر پل سامنے آنے والا مواد ہمارے جذبات، ذہن اور سوچنے کے انداز کو بدل رہا ہے۔
یہ اصطلاح نہ صرف آج کے سوشل میڈیا ماحول کا عکس ہے بلکہ اس چیلنج کی بھی نشاندہی کرتی ہے جس کا سامنا جدید معاشرے کو مسلسل کرنا پڑ رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈیجیٹل دنیا سوشل میڈیا کرتا ہے آن لائن ریج بیٹ رہا ہے
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔