قومی ایئر لائن کی نجکاری کا معاملہ، کمپنیوں کو تازہ صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
—فائل فوٹو
قومی ایئر لائن کی نجکاری کے معاملے پر نجکاری میں شامل چاروں کمپنیوں کو نجکاری کمیشن نے تازہ صورتِ حال سے آگاہ کر دیا۔
ذرائع کے مطابق قومی ایئر لائن کی نجکاری کے لیے بولی 10 سے 15 دسمبر کے درمیان ہونے کی اُمید ہے، قومی ایئر لائن کی جانب سے یومیہ 70 پروازیں چلائی جاتی ہیں۔
قومی ایئر لائن کی جانب یومیہ 45 بین الاقوامی اور 25 ڈومیسٹک فلائٹ چلائی جا رہی ہیں جبکہ قومی ایئر لائن کے 34 طیارے ہیں ان میں صرف 18 آپریشنل ہیں۔
وزیراعظم نے قومی ایئر لائن کی نجکاری کے تمام مراحل تیز اور شفاف طریقے سے مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
قومی ایئر لائن اس وقت 18 انٹرنیشنل روٹس پر پروازیں چلا رہی ہے، قومی ایئر لائن 13 ڈومیسٹک روٹس پر پروازیں کو چلا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوری سے جون 2025 کے 6 ماہ میں قومی ایئر لائن کو 112 ارب روپے کی آمدنی ہوئی، قومی ایئر لائن کے پاس مجموعی طور 9 ہزار 500 ملازمین ہیں۔
قومی ایئر لائن میں ساڑھے 6 ہزار مستقل اور 3 ہزار کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین ہیں، خریداری میں شامل کمپنیاں ایئر لائن ملازمین کے مستقبل سے متعلق کوئی فیصلہ نہ کر سکیں۔
ذرائع کے مطابق قومی ایئر لائن لندن اور برمنگھم کے لیے بھی جلد پروازیں شروع کرے گی، حکومت قومی ایئر لائن کے 51 تا 100 فیصد شیئرز فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قومی ایئر لائن کی نجکاری کے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔