وکیل طارق منصور ایڈووکیٹ نے مؤقف دیا کہ 2018ء سے کراچی کے ماسٹر پلان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے، واٹر کمیشن نے بھی شہر کا ماسٹر پلان نوٹیفائی کرنے کا کہا تھا، ساڑھے 3 کروڑ آبادی کا شہر ہے، لیکن ماسٹر پلان پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کراچی اسٹرٹیجک ڈویلپمنٹ پلان 2020ء پر عملدرآمد سے متعلق درخواست پر سیکریٹری لوکل گورنمنٹ سے جواب طلب کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس عدنان اقبال چوہدری کی سربراہی پر مشتمل دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو کراچی اسٹرٹیجک ڈویلپمنٹ پلان 2020ء پر عملدرآمد سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل طارق منصور ایڈووکیٹ نے مؤقف دیا کہ 2018ء سے کراچی کے ماسٹر پلان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے، واٹر کمیشن نے بھی شہر کا ماسٹر پلان نوٹیفائی کرنے کا کہا تھا، ساڑھے 3 کروڑ آبادی کا شہر ہے، لیکن ماسٹر پلان پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا ہے۔

مؤقف میں کہا گیا کہ دو دن پہلے 3 سالہ بچہ ابراہیم گٹر میں گر کر ہلاک ہوگیا، اس ماسٹر پلان کی تیاری میں وفاقی ادارے اور تمام ادارے شامل تھے۔ جسٹس عدنان اقبال چوہدری نے ریمارکس دیئے کہ یہی تو معاملہ ہے 10 ادارے ہوتے ہیں، ان میں کوئی کوارڈینیشن نہیں ہوتی ہے، کیا اس پلان پر لوکل گورنمنٹ نے اس پر عملدرآمد کرانا ہے؟ طارق منصور ایڈووکیٹ نے مؤقف دیا کہ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو حلف نامہ جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔ سندھ حکومت کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ 2007ء کا ماسٹر پلان تھا یہ 2024ء میں درخواست دائر کر رہے ہیں۔

جسٹس عدنان اقبال چوہدری نے ریمارکس دیئے کہ اس پر عملدرآمد کس نے کرانا تھا؟ سندھ حکومت کے وکیل نے مؤقف دیا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ آگیا ہے یہ ادارہ بھی لوکل گورنمنٹ کے پاس ہے، ہم نے کوئی انڈرٹیکنگ نہیں دی ہے اس کو ختم کیا جائے۔ درخواستگزار کے وکیل نے مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ ایک لاکھ لوگوں نے دستخط کیے ہیں، یہ دستاویزات ریکارڈ کا حصہ بنائی جائیں۔ جسٹس عدنان اقبال چوہدری نے ریمارکس میں کہا کہ جو دستاویزات فائل کرنی ہے دفتر میں جمع کروائیں۔ عدالت نے سیکریٹری لوکل گورنمنٹ سے 15 جنوری تک جواب طلب کرلیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ماسٹر پلان پر عملدرآمد نہیں جسٹس عدنان اقبال چوہدری نے مؤقف دیا کہ لوکل گورنمنٹ کے وکیل

پڑھیں:

کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق

شہر قائد کے علاقے مواچھ گوٹھ میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مواچھ گوٹھ کے نور شاہ محلے میں 7 سالہ بچہ کھلے مین ہول میں گرکر جاں بحق ہوا جس کی شناخت جہانگیر کے نام سے کی گئی۔

ایس ایچ او موچکو واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ بچہ گھر کے قریب کھیلتے ہوئے کھلے مین ہول میں گرا۔

کھلے مین ہول میں گرکر بچے کی ہلاکت پر اہل خانہ شدت غم سے نڈھال ہوگئے اور واقعے کے بعد علاقہ مکینوں میں شدید اشتعال پھیل گیا۔

مواچھ گوٹھ میں کھلے مین ہول میں گرنے سے بچے کی ہلاکت کے بعد علاقہ مکینوں نے بچے کی میت رکھ کر احتجاج کیا اور حب ریور روڈ و ناردرن بائی پاس پر ٹریفک کو بند کردیا۔

 

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا