data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا بھر میں لاکھوں صارفین اس وقت  تشویش میں مبتلا ہو گئے،  جب اوپن اے آئی اور چیٹ جی پی ٹی کی خدمات اچانک معطل ہو گئیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق منگل کی دوپہر امریکی مشرقی وقت کے مطابق 2 بج کر 30 منٹ کے بعد دنیا کے مختلف خطّوں سے یہ رپورٹس سامنے آتی رہیں کہ صارفین سروس تک رسائی سے محروم ہیں۔ متعدد افراد کا کہنا تھا کہ سسٹم بار بار لوڈ ہوتا ہے لیکن کوئی جواب نہیں دیتا، جس کے باعث ان کا روزمرہ کا کام شدید متاثر ہوا۔

بین الاقوامی ویب سائٹ ’’ڈاؤن ڈیٹیکٹر‘‘ پر بھی صارفین کی جانب سے شکایات کا سیلاب آ گیا۔ صرف چند منٹوں کے اندر 39 ہزار سے زائد افراد نے رپورٹ دی کہ وہ چیٹ جی پی ٹی سے رابطہ نہیں کر پا رہے۔ ان میں سے 92 فیصد نے براہِ راست چیٹ جی پی ٹی تک رسائی کا مسئلہ بیان کیا جب کہ 7 فیصد نے اوپن اے آئی کی مرکزی ویب سائٹ میں خرابی کی اطلاع دی۔

صرف ایک فیصد صارفین نے اے پی آئی تک رسائی میں رکاوٹ کی نشاندہی کی۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ مسئلہ بڑی تعداد میں انہی لوگوں کو درپیش تھا جو روزانہ مختلف کاموں کے لیے چیٹ جی پی ٹی پر انحصار کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی اس اچانک معطلی نے ہلچل مچا دی۔ صارفین نے مختلف انداز میں اپنی برہمی ظاہر کی۔ کئی لوگوں نے شکایت کی کہ سروس مکمل طور پر جام ہو چکی ہے اور کوئی ریسپانس نہیں مل رہا۔

بعض صارفین نے طنزاً یہ بھی کہا کہ جن لوگوں کا پورا دن چیٹ جی پی ٹی پر منحصر ہے وہ سب سے زیادہ پریشان نظر آئے، خصوصاً وہ طلبہ جو اس پلیٹ فارم کو اپنی اسائنمنٹس اور تحقیق کے لیے بطور سہولت استعمال کرتے ہیں۔

خوش قسمتی سے مسئلہ زیادہ طویل نہیں رہا اور تقریباً 20 منٹ بعد سروس آہستہ آہستہ بحال ہونا شروع ہو گئی۔ متعدد صارفین نے اس بات کی تصدیق کی کہ چیٹ جی پی ٹی دوبارہ چلنے لگا ہے، تاہم کچھ علاقوں میں سروس کی رفتار اب بھی متاثر دکھائی دیتی رہی۔

اُدھر اوپن اے آئی نے اپنے اسٹٹس پیج پر ایک مختصر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی بڑھتے ہوئے ایرر ریٹس سے آگاہ ہے اور تکنیکی ٹیم صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹ میں بتایا گیا کہ خرابی کو دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا چکے ہیں اور سروس کی مکمل بحالی تک مانیٹرنگ جاری رہے گی۔

اس سے قبل کمپنی نے 2 بج کر 26 منٹ پر پہلی مرتبہ سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مختلف سروسز میں غیر معمولی ایررز سامنے آ رہے ہیں اور مسئلے کی تکنیکی وجوہات جاننے کے لیے فوری تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اگرچہ یہ تعطل مختصر تھا لیکن چند منٹ کی یہ بندش دنیا بھر میں چیٹ جی پی ٹی پر بڑھتے ہوئے انحصار کی واضح علامت ثابت ہوئی، جس نے سوشل میڈیا پر دلچسپ بحث کو بھی جنم دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی اوپن اے آئی صارفین نے کے لیے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا