اوپن اے آئی کو عالمی سطح پر تعطل کا سامنا، ہزاروں صارفین کیلیے چیٹ جی پی ٹی سروس ڈاؤن
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
دنیا بھر میں اوپن اے آئی اور چیٹ جی پی ٹی کی سروس اچانک متاثر ہونے کے باعث لاکھوں صارفین برہمی اور پریشانی کا شکار رہے۔ منگل کی دوپہر 2 بج کر 30 منٹ (امریکی مشرقی وقت) کے بعد عالمی سطح پر صارفین نے سروس تک رسائی میں شدید مشکلات کی شکایات کیں۔
بین الاقوامی ویب سائٹ ڈآن ڈیٹیکٹر پر 39 ہزار سے زائد صارفین نے چیٹ جی پی ٹی استعمال نہ ہونے کی رپورٹ درج کرائی جن میں سے 92 فیصد نے خاص طور پر چیٹ جی پی ٹی تک رسائی میں مسئلے کی نشاندہی کی۔ 7 فیصد صارفین نے اوپن اے آئی کی ویب سائٹ تک رسائی میں مسائل بتائے جبکہ 1 فیصد نے اے پی آئی تک رسائی متاثر ہونے کی شکایت کی۔
صارفین نے سوشل میڈیا پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سروس بالکل جواب نہیں دے رہی اور ہمیشہ لوڈنگ پر ہی رہتی ہے۔کچھ صارفین نے شکایت کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا خاص طور پر ان طلبہ کو جو اس پر انحصار کرتے ہیں۔
مسئلہ تقریباً 20 منٹ بعد حل ہونا شروع ہوگیا اور صارفین نے دعویٰ کیا کہ سروس دوبارہ کام کرنے لگی ہے۔
اوپن اے آئی نے اپنی اسٹٹس پیج پر ایک مختصر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی بڑھتے ہوئے ایرر ریٹس کا جائزہ لے رہی ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹ میں بتایا گیاکہ ہم نے مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کرلیے ہیں اور صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
اس سے قبل 2 بج کر 26 منٹ پر اوپن اے آئی نے پہلی بار اعتراف کیا تھا کہ صارفین مختلف سروسز میں غیر معمولی ایررز کا سامنا کر رہے ہیں، کمپنی نے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
مختصراً، چند منٹ پر مشتمل یہ عالمی تعطل نہ صرف لاکھوں صارفین کے لیے پریشانی کا باعث بنا بلکہ سوشل میڈیا پر دلچسپ بحث کا موضوع بھی رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی اوپن اے آئی صارفین نے تک رسائی
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔