سوشل میڈیا میں فیک نیوز پھیلانے پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن ہو گا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
سٹی42: جھوٹ پھیلانا اب ناممکن ہونے جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے میں ملوث صحافیوں کو بھی اب بھگتنا پڑ جائے گا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے آج لاہور مین میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ طویل انٹریکشن کے دوران یہ بھی بتایا کہ کسی زندہ کو مار دینا، کسی مردہ کو زندہ کر دینا سوش؛ میڈیا پر اب نہیں ہو گا۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ سخت کریک ڈاؤن ہونے والا ہے۔
لکی مروت: پولیس موبائل پر خودکش حملہ، ایک اہلکار شہید، 6 زخمی
انہوں نے کہا، سوشل میڈیا پہ کوئی جھوٹ لے کر سوشل میڈیا پر اس کو پھیلائیں گے، تو اس کی ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ سوشل میڈیا پہ آپ جو مرضی بول دیں۔ جس کے خلاف جو مرضی ہے پوسٹ لگا دیں۔
محسن نقوی نے کہا، جو زندہ ہے اس کو مار دیں، جو مرا ہوا ہے تو اس کو زندہ کر دیں؛ اب یہ چیز نہیں ہو سکتی۔ اس کے اوپر ہم مل بیٹھ کر انفارمیشن منسٹری کے ساتھ این سی سی ائی اے میں مشاورت کر رہے ہیں، بڑے سکیل پر کریک ڈاؤن کریں گے۔
لکی مروت: پولیس موبائل پر خودکش حملہ، ایک اہلکار شہید
وزیر داخلہ نے ٹھوس لہجے میں بتایا، ہم اجازت نہیں دیں گے کہ اپ اس طرح فیک نیوز کو سپریڈ کریں، پورے ملک میں ایک (خوف و ہراس) پینیک پھیلائیں اور اس کے بعد آپ کو کوئی کچھ کہہ دے تو شور بھی مچا دیں۔
محسن نقوی نے کہا، میں بڑی عزت کے ساتھ سب سے ریکویسٹ کر رہا ہوں کہ آپ پلیز اس کو دیکھیں۔ صحافی ہمارے لیے بالکل امپورٹنٹ ہیں اور آزادیِ رائے بالکل امپورٹنٹ ہے۔ اور وہ اسی طرح رہنا چاہیے۔ لیکن یہ فیک نیوز ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ٹرائل پر فوری حکم امتناع کی استدعا مسترد
جو جی میں آئے تنقید کرو لیکن خبر جھوٹی نہ ہو!
محسن نقوی نے جو ایک نیوز آؤٹ لیٹ کے بانی کارکن بھی ہیں، واضح کیا، میں اس ٹائم پہ خود بطور صحافی اس چیز کو بالکل ویلیو کرتا ہوں کہ ہمیں یہ آزادی دینا چاہیے اور آزادی ہونا چاہیے کہ جس کا جو دل کرے وہ لکھےاور بولے۔ ہمارے خیال میں اگر کسی نے کریٹیسائز (تنقید) کرنا ہے بالکل کریں لیکن۔۔۔۔ محسن نقوی نے تنقید کو جھوٹ سے الگ کرنے کی ضرورت پر توجہ دلاتے ہوئے کہا، اس ٹائم، پچھلے چند دنوں سے۔ کئی ہفتوں سے سوشل میڈیا پر، میرے خیال میں، 90 پرسنٹ "خبریں" غلط چل رہی ہیں۔
بحرین میں مستقل رہائش حاصل کریں، آسان شرائط سامنے آگئیں
نیوز آؤٹ لیٹس میں ڈسپلن ہے، جواب دہی ہے
محسن نقوی نے کہا، آپ کا نیشنل میڈیا ہے، کوئی چیز غلط چلتی ہے تو پیمرا میں کمپلینٹ ہوتی ہے۔ کوئی چیز غلط ہوتی ہے تو آپ - ہررپورٹر ، اپنے ڈائریکٹر نیوز کو جواب دے ہوتا ہے۔ کوئی چیز اوپر نیچے ہوگی تو بیورو چیف اس سے پوچھے گا، رپورٹر سے کہ بھائی آپ نے یہ کیوں کیا، یہ کیسے کیا ہے۔
پنجاب: افغان دہشتگرد گرفتار، بیان بھی سامنے آگیا
اس کے برعکس، محسن نقوی نے کہا، سوشل میڈیا پہ اس ٹائم پہ کسی کی تصویر لگائیں گے، جس کا جو دل کرے گا، وہ خبر بنائیں گے اور اس کو چلائیں گے۔
ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ آپ کا، جس کا دل کرے، اس کو آپ چاہیں، جتنی مرضی ایویڈنس ہے ااپ کے پاس بالکل دیں۔ پروفیشنل رپورٹر کی حیثیت سے اپنی سٹوری دیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ سوشل میڈیا پہ آپ جو مرضی بول دیں، کسی کے بھی خلاف ، جو مرضی ہے، ایپلیکیشن لگا دیں آپ جس خبر کو جس طرح، مکھی سی کو ، جو زندہ ہے اس کو مار دیں، اور کسی کو جو مرا ہوا ہے تو اس کو زندہ کر دیں؛ یہ چیز نہیں ہو گی۔ اس کے اوپر ہم مل بیٹھ کر انفارمیشن منسٹری کے ساتھ این سی سی ائی ہے بڑے پیمانہ پر( masive سکیل پر) کریک ڈاؤن کر یں گے۔
یہ ہم اجازت نہیں دیں گے کہ آپ اس طرح فیک نیوز کو سپریڈ کریں۔ پورے ملک میں ایک پینک پھیلائیں اور اس کے بعد آپ کو کوئی کچھ کہہ دیں تو آپ صحافت کا لبادہ اوڑھ لین۔
خود صحافت کی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے وزیر داخلہ نے کہا، جو صحافی ہیں وہ اس ٹائم پہ ذمہ دار ہی۔ جو نیشنل میڈیا میں موجود ہیں- جن کا ایک سسٹم ہے، ہر ادارے میں، خواہ کسی بھی طرح کا ادارہ ہے، ان کا ایک سسٹم ہوتا ہے۔ اس کا چیک اینڈ بیلنس ہوتا ہے، ایٹورل بورڈ ہوتا ہے ، پھر پیمرا پلیٹ فارم ہوتا ہے ۔ سب کچھ ہوتا ہے۔ وہ صاف ہے ہمارے لیے۔
محسن نقوی نے فیک نیوز کو پھیلانے کا سبب بننے والے بنیادی فیکٹر کو ڈسکس کرتے ہوئے کہا، جو لوگ بیٹھ کے ان کی خبریں سنائیں گے جو ہخود صحافی نہیں ہیں، تو اس پہ ہم بالکل کلیئر ہیں۔
محسن نقوی نے وی لاگ کرنے والوں کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا، تو پلیز اپنی جو بھی آپ وی لاگ کرتے ہیں یا پوڈ کاسٹ کرتے ہیں یا اور کسی طریقے سے کرتے ہیں آپ اپنی ذمہ داری کے ساتھ خبر پھیلائیں۔
یہ نہیں ہو سکتا کہ روز ملک میں ایک نیا پینک پھیل رہا ہے کہ فلاں چیز ہوگئی، فلاں چیز ہوگئی اور اس کے بعد ان کو کوئی پوچھتا نہیں۔
محسن نقوی نے ریگولر میڈیا کی صورتحال کو ڈسکس کرتے ہوئے دہرایا،، ریگولر میڈیا میں کوئی غلط خبر فائل کریں تو سہی، دیکھیں آپ کے اپنے جرنلسٹ اس کے پیچھے پڑ جائیں گے، پوچھیں گے، یار یہ کیا کیا۔۔۔۔ تو اس چیز کی اجازت کسی صورت نہیں ہوتی تو اس میں بالکل کلیرٹی ہے اور میں اس لیے بڑی عزت کے ساتھ سب کو ریکویسٹ کر رہا ہوں کہ آپ پلیز اس کو دیکھیں۔ صحافی ہمارے لیے بالکل امپورٹنٹ ہے اور آزادی رائے بالکل امپورٹنٹ ہے اور وہ اسی طرح رہنا چاہیے لیکن فیک نیوز پھیلانے کو اب مزید برداشت نہین کرین گے، سوشل میڈیا میں فیک نیوز پھیلانے پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن ہو گا۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اجازت نہیں دیں گے محسن نقوی نے کہا سوشل میڈیا پہ وزیر داخلہ کریک ڈاؤن میڈیا میں فیک نیوز میڈیا پر ہوتا ہے اس ٹائم کے ساتھ نہیں ہو نیوز کو اور اس
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔