روس یوکرین جنگ بندی مذاکرات کے دوران خونریز حملے، 9 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
روس یوکرین جنگ بندی مذاکرات کے دوران دونوں ممالک میں ہونے والے نئے حملوں نے صورتحال مزید کشیدہ کر دی ہے، جبکہ کیف اور روستوف میں ہونے والے تازہ حملوں میں مجموعی طور پر 9 افراد ہلاک ہوگئے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ کیف ایسا امن معاہدہ چاہتا ہے جو یوکرین کو مضبوط کرے، نہ کہ کمزور کرے۔
روسی حکام کے مطابق روستوف ریجن پر یوکرینی حملے میں 3 افراد مارے گئے جبکہ 10 زخمی ہوئے۔ دوسری جانب یوکرین کی ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ روس کی رات گئے کیف پر بمباری سے 6 افراد جاں بحق ہوئے۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رات کے دوران یوکرین کے تقریباً 250 ڈرون مار گرائے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی اہلکار ابوظہبی میں یوکرین اور روسی وفود سے مذاکرات کے سلسلے میں ملاقات کریں گے۔
یورپی اتحادیوں نے جنگ بندی سے متعلق امریکی ترمیمی امن تجویز کا محتاط خیر مقدم کیا ہے، جس پر ابتدائی طور پر تنقید کی گئی تھی کہ یہ روس کے مؤقف کے زیادہ قریب ہے۔
ادھر یوکرینی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے روس کے جنوبی علاقے کریسنودار میں ایک آئل ریفائنری اور بلیک سی کی بندرگاہ نووروسیسک میں آئل ٹرمینل کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ یوکرین نے روستوف کے شہر ٹاگانروگ میں A-60 جاسوسی طیارے کو ٹارگٹ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ ماسکو کو ابھی تک کوئی نیا ترمیم شدہ امن منصوبہ موصول نہیں ہوا، اور فی الحال صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ابتدائی منصوبہ ہی مذاکرات کی بنیاد ہے۔
روسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنیوا مذاکرات بڑے مسائل تک نہیں پہنچ سکے، اور سرحدوں، یوکرین کے مستقبل کے اسٹیٹس سمیت بنیادی معاملات ابھی تک حل طلب ہیں۔
ادھر رومانیہ نے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ڈرونز کا پیچھا کرنے کے لیے یورو فائٹر اور ایف-16 طیارے روانہ کیے۔ حکام کے مطابق یہ دراندازیاں نیٹو کے مشرقی محاذ پر کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔