وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ افغان ہمارے مہمان تھے لیکن اب ہمارے مہمان نہیں ہیں، افغان شہریوں سے درخواست ہے کہ آپ لوگ خود عزت سے واپس چلے جائیں، ملک بھر سے افغان باشندوں کو ہر صورت واپس بھیجا جائے گا۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ چند دن پہلے جن لوگوں نے ایف سی پر حملہ کیا وہ تینوں افغان نکلے، اسلام آباد کچہری میں حملہ کرنے والا بھی افغان شہری تھا، ملک میں جتنے بھی حملے ہو رہے ہیں ان میں افغان ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر سے غیر قانونی افغان باشندوں کا انخلا جاری ہے، غیر قانونی افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، ہمیں ہر صورت غیر قانونی افغان مہاجرین کو واپس بھیجنا ہے، وفاقی حکومت کے ہر فیصلے پر عمل کرنا ہوگا، ہم مزید دھماکے افورڈ نہیں کر سکتے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ غیر قانونی افغان مہاجرین سے درخواست ہے کہ وہ خود عزت کے ساتھ اپنے وطن چلے جائیں، اگر کسی کو بھیجا گیا اور وہ واپس آیا تو پھر اسے گرفتار کر کے سزا دی جائے گی، خیبر پختونخوا میں افغان کیمپ ختم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں واضح طور پر پتا ہے دہشت گردی کے پیچھے کون ہے اور کون یہ کروا رہا ہے، افغان طالبان حکومت دہشتگردوں کو لگام دے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں افغان کیمپ ختم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ہر ایس ایچ او کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقے سے افغان شہریوں کو نکالے، جس کو بھیجا گیا اگر وہ واپس آیا تو گرفتار کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تین صوبوں سے غیر قانونی ا فغان شہریوں کو واپس بھیجا گیا، طورخم بارڈر سے تقریباً 4لاکھ60ہزارسے زائد افغانی واپس بھیجے، خیبرپختونخوا میں صورتحال مختلف ہے، اس صوبے میں باقاعدہ طور پر غیر قانونی افغان شہریوں کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پشاور اورضلع نوشہرہ میں افغان کیمپ ڈی نوٹیفائی کیے، شمالی اورجنوبی وزیرستان میں بھی افغانی کیمپ ڈی نوٹیفائی کیے لیکن وہ اب تک آپریشنل ہیں ان کو بند نہیں کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو واضح پیغام ہے کہ پہلے اپنے ملک کا سوچیں، پھر اپنی سیاست کریں، سب سے ضروری ہے کہ آپ کا ملک کن مسائل کا سامنا کررہا ہے، خیبرپختونخوا حکومت کو وفاق کے فیصلے پر ہر صورت عمل کرنا ہوگا، ہم خودکش دھماکے مزید برداشت نہیں کرسکتے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر 90 فیصد خبریں غلط چل رہی ہوتی ہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ جو چاہیں سوشل میڈیا پر چلا دیں، سوشل میڈیا پر غلط خبر پر کریک ڈاؤن ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل میڈیا پر غلط خبر نشر کرنے پر پیمرا کا نوٹس ہوتا ہے، جھوٹی خبر پھیلانے والے صحافی نہیں، اظہار رائے کی آزادی ہے لیکن فیک نیوز پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ محسن نقوی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کسی کی تذلیل کی اجازت نہیں دیں گے، قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، کوئی لندن میں بیٹھ کر بکواس کر رہا ہے کہ اداروں میں یہ مسئلہ چل رہا ہے، اگر آپ کے پاس ثبوت ہے تو ضرور سامنے لائیں۔ انہوں نے کہا جو لوگ باہر بیٹھے ہیں انہیں بتا دوں کہ آپ لوگ بہت جلد واپس آرہے ہیں، بہت جلد آپ کو یہاں لائیں گے اور ساری باتوں کا جواب دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھاکہ ہم ٹی وی چینلز کو کیوں غلط نہیں کہتے کیونکہ وہ ایک سسٹم کے تحت چل رہے ہیں، اگر کوئی ٹی وی چینل غلط خبر چلاتا ہے تو اس کو جرمانہ ہوتا ہے، جو فیک نیوز پھیلا رہا ہے ان کے خلاف کارروائی ضرور ہو گی۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: غیر قانونی افغان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر وزیر داخلہ میں افغان محسن نقوی نے کہا کہ انہوں نے رہے ہیں رہا ہے

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان