وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے امریکی قونصل جنرل تھامس ایکرٹ نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں اہم ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مزید دریافت کریں تعلیم کے کورسز شوبز کی خبریں ایپ لائیو ٹی وی سبسکرپشن پاکستان نیوز ٹیکنالوجی گیجٹس اہم خبریں لائیو ٹی وی کھیلوں کا سامان میڈیا کٹس بجٹ 2025-26 ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، معدنیات، توانائی اور سکیورٹی تعاون سمیت انسدادِ دہشت گردی اور انسدادِ منشیات کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔ امریکی قونصل جنرل تھامس ایکرٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی سفارتکاری امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور اقتصادی سفارتکاری میں اضافہ مجموعی امن و استحکام کو مزید فروغ دے گا۔ ان کے مطابق معدنیات اور توانائی کے شعبے میں شراکت داری دونوں فریقین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بتایا کہ خیبر پختونخوا منرلز ایکٹ کے تحت مقامی آبادی کو سرمایہ کاری میں اوّلین ترجیح حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ایسی نجی سرمایہ کاری کی مکمل حوصلہ افزائی کر رہی ہے جس سے مقامی لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ عوامی مفاد حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور صوبہ سستی و صاف توانائی کے حصول کے لیے چھوٹے پن بجلی گھروں اور ڈیموں پر کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 9/11 کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا، تاہم اب حکومت انفرااسٹرکچر، ادارہ جاتی مضبوطی اور استعداد کار میں بہتری پر فوکس کر رہی ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن