پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے امریکی قونصل جنرل تھامس ایکرٹ نے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اہم ملاقات کی۔

 نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، معدنیات، توانائی اور سکیورٹی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ انسدادِ دہشت گردی اور انسداد منشیات میں تعاون پر بھی گفتگو ہوئی۔

تھامس ایکرٹ کا کہنا تھا کہ تجارتی سفارتکاری امریکی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون ہے، اقتصادی سفارتکاری کے فروغ سے مجموعی امن و استحکام کو تقویت ملے گی، معدنیات اور توانائی کی شراکت داری اقتصادی سفارتکاری کو مضبوط کرے گی۔

چوہنگ پولیس نے شہری کے راستے میں گر جانے والے 20 لاکھ روپے ڈھونڈ کر واپس کر دیئے

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا منرلز ایکٹ کے تحت مقامی آبادی کو سرمایہ کاری میں اوّلین ترجیح حاصل ہے، مقامی آبادی کو فائدہ پہنچانے والی نجی سرمایہ کاری کی مکمل حوصلہ افزائی کریں گے اور اسے سہولت دی جائے گی۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عوامی مفاد صوبائی حکومت کی اوّلین ترجیح ہے، صوبائی حکومت سستی اور صاف توانائی کے لیے چھوٹے پن بجلی گھروں اور ڈیموں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا ہے کہ نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا، اب صوبائی حکومت انفرااسٹرکچر، ادارہ جاتی مضبوطی اور استعداد سازی پر کام کر رہی ہے، ضم شدہ اضلاع میں نایاب معدنی ذخائر سے مقامی آبادی کو براہ راست فائدہ دیا جائے گا۔
 

یو اے ای کیساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور دفاع میں تعاون مزید بڑھنے کا یقین ہے: صدر مملکت

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری

پڑھیں:

عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے

بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔

اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی