سوچ بدلنی ہوگی، حکومت کا کام نوکریاں دینا نہیں،و وفاقی زیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کا کام نوکریاں دینا نہیں ہے، ہمیں یہ سوچ بدلنی ہوگی۔
انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے زیرِ اہتمام ہونے والے سیمینار میں ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ دنیا کے کسی بھی ترقی پذیر ملک میں حکومت کا بنیادی کردار روزگار فراہم کرنا نہیں ہوتا، اسی لیے پاکستان میں بھی اب اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی عالمی معیشت میں آئی ٹی اور آن لائن مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور نوجوان طبقہ فری لانسنگ اور ڈیجیٹل اسکلز کے ذریعے خود اپنے روزگار کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
وزیر خزانہ کی گفتگو کے برعکس سیمینار میں شریک مختلف ماہرینِ معیشت نے پاکستان کے معاشی ڈھانچے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ آئی بی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس اکبر زیدی نے اپنے خطاب میں ملکی معاشی سمت کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام بڑے معاشی اشاریے زوال کی طرف جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں حکومتیں نجی شعبے کو ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہیں، مگر پاکستان میں سرمایہ کاروں کے لیے ایسا ماحول نہایت محدود ہے، جس کے باعث معاشی سرگرمیاں دبتے دبتے ختم ہونے کے قریب ہیں۔
ڈاکٹر زیدی کے مطابق پاکستان کا ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس میں 168 واں نمبر انتہائی افسوسناک اور خطرناک ہے، جو واضح کرتا ہے کہ تعلیم، صحت اور انسانی ترقی جیسے شعبوں میں صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں نئی ڈیجیٹل معیشت یا آئی ٹی انقلاب کی بات کرنا زمینی حقائق سے متصادم ہے، کیونکہ جب تک بنیادی معاشی ڈھانچہ مضبوط نہیں ہوگا، ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی محض ایک خوش فہمی ہی رہے گی۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک کے گورنر کے اس اعتراف کا بھی حوالہ دیا کہ موجودہ معاشی نظام 25 کروڑ آبادی کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
سیمینار میں سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی کڑی تنقید کی گئی۔ شرکا نے یاد دلایا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خود یہ تسلیم کیا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے حالات انتہائی خراب ہیں اور مقامی سرمایہ کار تیزی سے اپنا سرمایہ بیرونِ ملک منتقل کر رہے ہیں، جس کا براہِ راست اثر ملکی روزگار کے مواقع پر پڑ رہا ہے۔
شرکا کا مزید کہنا تھا کہ اسی دباؤ کے نتیجے میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 7.
بین الاقوامی ماہرین نے بھی پاکستانی نوجوانوں کے مستقبل کے حوالے سے تشویش ظاہر کی۔ ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر بولورما امگابازار نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جس میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، لیکن جب تک انہیں مناسب تربیت اور ملازمت کے حقیقی مواقع فراہم نہیں کیے جاتے، یہ صلاحیت کبھی عملی ترقی میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر علی چیمہ نے آبادی کے تیز رفتار بڑھنے کو پاکستان کی سب سے بڑی معاشی رکاوٹ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آبادی میں اضافے کی موجودہ رفتار پر قابو نہ پایا گیا تو معاشی ترقی کا خواب صرف خواب ہی رہے گا۔
ڈاکٹر حنید مختار نے بتایا کہ پاکستان کی فی کس آمدن بھارت سے 71 فیصد کم اور بنگلادیش سے 53 فیصد کم ہے، جس کی بنیادی وجوہ کم سرمایہ کاری، پالیسیوں میں عدم تسلسل اور آبادی کا غیر معمولی دباؤ ہیں۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
خان نہیں تو کچھ نہیں والی سوچ پر لعنت بھیجتے ہیں: وفاقی وزرا
راولپنڈی‘ اسلام آباد‘ لاہور‘ فیروز والا (اپنے سٹاف رپورٹر سے + نوائے وقت رپورٹ + نامہ نگار) وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان ایک ذہنی مریض ہے، ان کی پارٹی والی کہتے ہیں کہ خان نہیں تو کچھ نہیں، ہم لعنت بھیجتے ہیں ایسی سوچ پر، کیوں کہ پاکستان نہیں تو کچھ نہیں۔ لاہور میں ن لیگی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پی کے میں ایک جماعت کی ساڑھے 12 سال سے حکومت ہے اور وہ صوبے میں ایک بھی ترقیاتی کام نہیں کرا سکی۔ صوبائی حکومت نے خیبر پی کے کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اپنے صوبے میں ایک ہسپتال بھی نہ بنا سکی جب کہ مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں فرانزک لیب جیسا بڑا منصوبہ بنایا اور بے شمار ترقیاتی کام کرائے۔ پشاور میں بزدار پلس کی حکومت کا جلسہ عوام نے مسترد کر دیا۔ جیل میں قید ذہنی مریض نے 190 ملین پاؤنڈ کی میگا کرپشن کی ہے۔ اس شخص نے ملک کی معیشت کو تباہ کیا، یہ شخص ہسپتال اور فلاحی منصوبوں کے فنڈز تک کھا گیا، معرکہ حق میں پاک فوج نے بھارت کو عبرتناک شکست دی۔ ہماری فوج سے بھارت خوف کھاتا ہے، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دشمن پر خوف طاری ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دور حکومت میں بھارت پر حملہ کرنے کی جرات بھی نہیں کی اور کشمیر کا مقدمہ بھی نہیں لڑا اور یہ لوگ فوج پر الزامات لگاتے ہیں، ان کی بہنیں بھارتی میڈیا پر جا کر فوج پر الزامات لگاتی ہیں۔ ان کے بیانات بھارت اور افغانستان کے میڈیا پر چلتے ہیں، ثابت ہے کہ انہیں پاکستان کا مفاد عزیز نہیں یہ چاہتے ہیں ہمیشہ اقتدار میں رہیں۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منظم سازش کے ساتھ ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ وہی آلہ کار ہیں جو پہلے بھی آلہ کار رہے۔ فوج کے خلاف مہم کسی بھی پاکستانی کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ ہندوستان اور افغانستان پاکستان دشمنی میں بہت آگے چلے گئے ہیں۔ ملکی سالمیت سے کھیلنے والا ذہنی مریض ہی ہو سکتا ہے۔ بانی کے بہنیں بچے ہندوستان کے میڈیا پر بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی مریض کیوں قرار دیا گیا۔ درست قرار دیا ہے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن کے بعد تمام قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں۔ وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز ملکی ترقی کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔ آج عالمی سطح پر کوئی بیٹھک پاکستان کی نمائندگی کے بغیر نہیں ہوتی۔ فوج میں تنظیم سازی کا مقصد تینوں فورسز میں رابطے کو بہتر بنانا ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گرد قوم پر اپنا نظام مسلط نہیں کر سکتے۔ بلوچستان کے لوگ اپنی فوج کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔ بلوچستان میں ملٹری آپریشن نہیں ہو رہا، سروں سے فٹبال کھیلنے والے دہشتگردوں سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ پاپولر لیڈر کے بیٹے لندن میں جبکہ فوجی جانیں دے رہے ہیں۔ سہیل آفریدی قابل احترام، اپنے کام پر فوکس کریں۔ ڈیرہ بگٹی میں 100کے قریب دہشت گردوں نے ریاست کے سامنے سرنڈر کیا، ہمیں پہاڑوں سے واپس آکر سرنڈر کرنے والوں کو ویلکم کرنا چاہئے۔ ریاست پاکستان اور اس کا پرچم زیادہ اہم ہے، ریاست پاکستان کیلئے ہم ذاتی مسائل سائیڈ پر رکھ دیتے ہیں۔ افغان نگران حکومت نے دوحہ معاہدے میں وعدہ کیا تھا کہ ہماری سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ افغان حکومت ساری دنیا کے سامنے وعدہ خلافی کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر برائے صحت اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ شکر ادا کریں یہ فوج آپ کی گندگیوں کا جواب صرف پریس کانفرنس کرکے دے رہی ہے، اتنے ناپاک الزامات کے باوجود فوج صرف بات کر رہی ہے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھاکہ پاک فوج نے اپنی سے بڑی ہندوستان کی فوج کے عزائم کو خاک میں ملایا، ہم اس بیانیہ کے خلاف ہیں پاکستان اور فوج کے درمیان کوئی فاصلہ ہے، ہمیں اس فوج اور اس کے سربراہ پر فخر ہے اور احترام ہے۔ اس سے بہت کم گناہ کرنے پر مائیں اپنے بچوں کو ڈھونڈتی رہی ہیں، اتنے ناپاک الزامات کے باوجود فوج صرف بات کر رہی ہے، خدا نہ کرے جو ہمارے ساتھ ہوا وہ آپ کے ساتھ ہو، ورنہ اس سے بہت کم گناہ کرنے پر مائیں اپنے بچوں کو ڈھونڈتی رہی ہیں۔ ہم کراچی کے رہنے والے ہیں، 40 سالوں میں سب بھگتا ہے۔ علاوہ ازیں چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ پاکستان خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ہم نے اپنے لیڈر کو بھی پاکستان سے بڑا نہیں مانا، اس سے لا تعلق ہو گئے۔اگر پی ٹی آئی والے سمجھتے ہیں ان کا قائد ملک سے بڑا ہے تو انہیں فیصلہ کرنا ہو گا۔ پاکستان کسی سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا، خدشات بڑھ رہے ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں غیر ملکی مداخلت نہ ہو۔وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا اینٹی پاکستان ہونا کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے اور اس جیسے کرداروں کے خلاف بہت سی چیزیں بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھیں۔ بانی پی ٹی آئی کا اصل چہرہ سامنے آنے پر اس کے ساتھیوں کو شرم آنی چاہیے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس بالکل درست ہے اور یہ مزید سخت ہونی چاہیے تھے اس لیے اس پریس کانفرنس پر مایوسی کا اظہار کرنے والے پی ٹی آئی رہنماؤں کو ڈوب مرنا چاہیے۔ قبل ازیں انہوں نے سید ریاض الحسن شیرازی کی وفات پر انکی رہائش گاہ جا کر بیٹوں اور اہلخانہ سے اظہار تعزیت کیا۔