Nawaiwaqt:
2026-06-03@04:26:31 GMT

شگفتہ اعجاز نے وزن کم کرنے سے متعلق خاموشی توڑ دی

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

شگفتہ اعجاز نے وزن کم کرنے سے متعلق خاموشی توڑ دی

معروف پاکستانی اداکارہ شگفتہ اعجاز نے وزن کم کرنے کیلئے ذیابیطس ٹائپ 2 کی دوا ’اوزمپک‘ استعمال کرنے کی تردید کر دی۔نجی ٹی وی شو میں اینکر نے اداکارہ سے ایک بار پھر وزن کم کرنے سے متعلق سوال کیا تو جواب میں شگفتہ اعجاز نے کہا کہ ’میں اس بات پر حیران ہوں کہ ہمارے لوگ کتنے فارغ ہیں جو جھوٹی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی بھی اوزمپک استعمال نہیں کی اور جن لوگوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں نے دوا کھا کر وزن کم کیا تو میں جلد اُن کے خلاف قانونی ایکشن لوں گی، ہمارا مذہب اسلام کسی بھی بات کے گمان سے روکتا ہے مگر لوگوں نے اپنی طرف سے میرے بارے میں سوچ کر یقین کر لیا کہ میں نے وزن کم کرنے کیلئے اوزمپک دوا کا استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ میں اگر اپنے بارے میں بات کروں تو میرے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ کسی اور کی زندگی پر انگلی اٹھا سکوں جبکہ اب تو یہ فیشن بن گیا ہے کہ ہم دوسرے لوگوں کی زندگی میں مداخلت اور پھر سوالات کرتے ہیں جبکہ دین میں اس کی بھی اجازت نہیں ہے۔شگفتہ اعجاز نے بتایا کہ لوگ میری تصویریں لگا کر انہیں پھیلا رہے ہیں اور میں اس بات پر نہ صرف نالاں ہوں بلکہ شدید غصہ بھی ہے‘۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ اس سفر میں ایک طویل جدوجہد کر کے ہی کامیابی حاصل کی ہے اور یہ میرے لئے بالکل بھی آسان نہیں تھا، صرف میں ہی نہیں بلکہ میری چھوٹی بیٹیوں نے بھی اس حوالے سے مشکل وقت گزارا ہے۔واضح رہے کہ ’اوزمپک‘ نامی دوائی ذیابیطس کے مریضوں کو بھی دی جاتی ہے جبکہ بعض ماہرین اسے وزن کم کرنے کیلئے بھی تجویز کرتے ہیں، ’اوزمپک‘ نامی دوائی کا استعمال ڈاکٹرز کے مشورے کے بغیر خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، اس کے شدید سائیڈ افیکٹس بھی ہوتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شگفتہ اعجاز نے کرنے کی کہ میں

پڑھیں:

بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال

ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔

اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے