گوگل نے اپنا جدید جیمنی 3 ماڈل متعارف کر کے چیٹ جی پی ٹی کی عالمی برتری کو خطرے میں ڈال دیا۔

یہ بھی پڑھیں: انسان اور چیٹ بوٹ کے تعلق کے لیے خاص لفظ جسے کیمبرج ڈکشنری نے سال 2025 کا ورڈ بھی قرار دے دیا

 اس کے بعد اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین نے کمپنی میں ’کوڈ ریڈ‘ نافذ کر دیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب گوگل کے تازہ ترین جیمنی ماڈل نے نہ صرف اہم بینچ مارکس پر اوپن اے آئی کو پیچھے چھوڑا بلکہ کمپنی کے اسٹاک میں بھی نمایاں اضافہ کیا۔

اوپن اے آئی کی بڑی تبدیلیاں

مصنوعی ذہانت کی اس تیز رفتار جنگ میں آگے رہنے کے لیے اوپن اے آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی میں زیادہ ذاتی نوعیت کی خصوصیات شامل کی جائیں۔

جیسے رفتار اور قابل بھروسہ کارکردگی کو بہتر بنایا جائے اور سرچ صلاحیت کو مزید توسیع دی جائے تاکہ زیادہ پیچیدہ سوالات کے جواب دیے جاسکیں۔

مزید پڑھیے: گوگل نے اپنے صارفین کے لیے جیمینی3 پرو پیش کردیا، اس کی حیران کن خصوصیات کیا ہیں؟

اندرونی میمو کے مطابق آلٹمین نے حکم دیا ہے کہ فی الحال دیگر منصوبوں کو مؤخر کر دیا جائے جن میں اے آئی پر مبنی شاپنگ ٹولز، اشتہارات کی نئی خصوصیات اور ذاتی اسسٹنٹ  چیٹ جی پی ٹی پلس شامل ہیں۔

چیٹ جی پی ٹی کے سربراہ نک ٹرلی نے ایکس  پر لکھا کہ ہماری پوری توجہ چیٹ جی پی ٹی کو مزید طاقتور، استعمال میں آسان اور دنیا بھر کے صارفین کے لیے زیادہ قابل رسائی بنانے پر ہے۔

گوگل کی بڑھتی ہوئی برتری

جیمنی 3 ماڈل اور نئی امیج جنریشن ٹیکنالوجی نینوبنانا کی آمد کے بعد گوگل کے صارفین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
کمپنی کے مطابق جولائی میں 450 ملین فعال صارفین کی تعداد اکتوبر تک بڑھ کر 650 ملین ہو گئی تھی۔

مزید پڑھیں: ایپل اور گوگل میں 1 ارب ڈالر کا معاہدہ، کیا ’سری‘ گوگل کے جیمنی اے آئی سے چلے گا؟

اوپن اے آئی کو نہ صرف گوگل بلکہ اینتھراپک جیسے طاقتور اے آئی ماڈلز سے بھی سخت مقابلے کا سامنا ہے جسے کاروباری اداروں میں خاص مقبولیت حاصل ہے۔

کیا اوپن اے آئی مالی بحران سے دوچار ہے؟

اوپن اے آئی فی الوقت منافع بخش کمپنی نہیں اور اسے اپنی بقا کے لیے مسلسل سرمایہ کاری حاصل کرنی پڑ رہی ہے جو اسے گوگل جیسے ٹیک جائنٹس کے مقابلے میں کمزور پوزیشن میں کھڑا کرتی ہے۔

کمپنی کی مالی پیشگوئیوں کے مطابق منافع تک پہنچنے کے لیے اسے سنہ 2030 تک اپنی سالانہ آمدنی تقریباً 200 ارب ڈالر تک پہنچانی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے: چیٹ جی پی ٹی کا نیا انقلابی فیچر کیا ہے؟

تاہم سیم آلٹمین نے کمپنی کی مالی مشکلات سے متعلق دعوؤں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے 800 ملین سے زائد ہفتہ وار صارفین ان خدشات کو غلط ثابت کرتے ہیں۔

کوڈ ریڈ کیا ہے؟

کوڈ ریڈ کسی بھی بڑی ٹیک کمپنی میں اس وقت نافذ کیا جاتا ہے جب ادارے کو فوری اور سنجیدہ خطرہ لاحق ہو جائے۔

یہ ایک ہنگامی حالت ہوتی ہے جس میں کمپنی اپنی معمول کی ترجیحات اور منصوبے روک کر اپنی تمام توانائیاں اس مسئلے یا مقابلے پر لگا دیتی ہے جس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہو۔

اس کا مقصد تیزی سے ردِعمل دینا، نئی حکمتِ عملی بنانا اور اپنے مقام کو لاحق خطرے کو ٹالنا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: گوگل جیمنی پہلی بار چیٹ جی پی ٹی کو پیچھے چھوڑنے میں کامیاب، یہ کام کیسے ہوا؟

اوپن اے آئی کے معاملے میں کوڈ ریڈ اس لیے نافذ کیا گیا ہے کیونکہ گوگل کے جیمنی 3 ماڈل نے چیٹ جی ٹی کی برتری کو چیلنج کر دیا ہے۔ اس حالت میں کمپنی نے اپنی پوری ٹیم کو ہدایت دے دی ہے کہ وہ فی الحال باقی منصوبوں کو روک کر صرف ایک ہدف پر توجہ دیں جن میں جی پی ٹی کو مزید بہتر، تیز، طاقتور اور مسابقت کے قابل بنانا شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اوپن اے آئی اوپن اے آئی میں کوڈ ریڈ جیمنی چیٹ جی پی ٹی کوڈ ریڈ گوگل جیمنی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اوپن اے ا ئی چیٹ جی پی ٹی کوڈ ریڈ گوگل جیمنی چیٹ جی پی ٹی اوپن اے آئی جی پی ٹی کو کے مطابق گوگل کے کے لیے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار