ایئربس کے نئے اے320 طیاروں میں بڑی پیداواری خامی، ڈیلیوری شیڈول متاثر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یورپی طیارہ ساز کمپنی ایئربس کو ایک مرتبہ پھر اپنے مشہور اے320 طیاروں کی تیاری میں پیش آنے والی غیر متوقع پریشانی نے گھیر لیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ اے320 فیملی کے متعدد نئے طیاروں میں صنعتی معیار سے متعلق وہ خامی سامنے آئی ہے جس کے باعث طیاروں کے فیوزلاج پینلز کے جوڑ متاثر ہو رہے ہیں۔
اس تکنیکی مسئلے کا انکشاف معمول کی معائنے کی سرگرمیوں کے دوران سامنے آیا، جس نے نہ صرف ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ کمپنی کے رواں سال کے ڈیلیوری اہداف کو بھی واضح طور پر خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ابتدائی بیانات میں کمپنی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یہ خرابی اُن طیاروں میں نہیں ملی جو اس وقت دنیا بھر میں مختلف ایئر لائنز کے پاس زیرِ استعمال ہیں، اس لیے آپریشنل سطح پر کسی خطرے یا فوری گراؤنڈنگ کی ضرورت نہیں سمجھی جا رہی، تاہم یہ مسئلہ اُن نئے طیاروں میں ضرور رکاوٹ بن رہا ہے جو فیکٹریوں میں آخری مراحل میں ہیں یا ڈیلیوری کے قریب تھے۔
انجینئرز کی ٹیمیں ان پینلز کی درستگی، معائنے اور دوبارہ تیاری کے سلسلے میں مصروف ہیں جو ایئربس کے مجموعی پلان کو متاثر کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ نومبر میں ایئربس صرف 72 طیارے ہی صارفین کے حوالے کر سکی، جو صنعت کے تجزیہ کاروں کی توقعات سے خاصے کم ہیں۔ اس کمی کے ساتھ کمپنی کی مجموعی سالانہ ترسیلات 657 تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ اس سال کے لیے ایئربس کا سرکاری ہدف تقریباً 820 طیارے فراہم کرنا ہے۔
اس صورت حال کا واضح مطلب یہ ہے کہ دسمبر کے باقی دنوں میں کمپنی کو 160 سے زائد طیارے ڈیلیور کرنا ہوں گے، جو تاریخ کے اعتبار سے غیر معمولی ریکارڈ ہوگا۔
ایوی ایشن تجزیہ کاروں کی آرا اس صورتحال پر منقسم ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ایئربس اپنی پیداواری صلاحیت اور تجربے کی بنیاد پر مشکلات کے باوجود ہدف کے قریب پہنچ سکتی ہے جب کہ دیگر ماہرین سمجھتے ہیں کہ خامی، سافٹ ویئر مسائل اور سپلائی چین میں رکاوٹیں اس رفتار کو برقرار رکھنا مشکل بنا دیں گی۔
یاد رہے کہ کمپنی کو حال ہی میں ایک سافٹ ویئر بگ کے باعث ویک اینڈ کے دوران چند طیارے واپس بلانے پڑے تھے، جس سے اس کی پہلے سے دباؤ کا شکار ٹیموں کی توجہ مزید متاثر ہوئی ہے۔
صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ طیاروں کی تیاری ایک نہایت حساس عمل ہے، جہاں معمولی تکنیکی غلطی بھی پورے شیڈول کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایئربس کے لیے یہ صورتحال خاصی چیلنجنگ ہے کیونکہ اے320 فیملی کمپنی کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے طیاروں میں شمار ہوتی ہے اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف ڈیلیوری شیڈول بلکہ کمپنی کی ساکھ پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طیاروں میں
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز