بھارتی پرواز میں ’بم‘ کی اطلاع، ممبئی ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ، مسافروں میں کھلبلی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
نئی دہلی: کویت سے بھارتی شہر حیدرآباد آنے والی پرواز میں بم کی اطلاع جھوٹی ثابت ہوئی جس کے باعث ایئرپورٹ حکام میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق منگل کی صبح موصول ہونے والی ایک دھمکی آمیز ای میل میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پرواز میں دھماکا خیز مواد موجود ہے۔
ای میل کی اطلاع ملتے ہی طیارے کو حیدرآباد کے بجائے ممبئی ایئرپورٹ پر ہنگامی طور پر اتارا گیا، جہاں مسافروں اور سامان کو فوری طور پر طیارے سے اتار کر مکمل تلاشی لی گئی۔ سیکیورٹی اداروں نے طیارے کی تفصیلی جانچ پڑتال کی تاہم کوئی دھماکا خیز مواد برآمد نہ ہوا۔
حکام کے مطابق ای میل مکمل طور پر جھوٹی ثابت ہوئی جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ دھمکی بھیجنے والے شخص کا سراغ لگایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔