صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: ایم آر آئی رپورٹ کیا کہتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیووٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حال ہی میں کیا گیا ایم آر آئی اسکین محض احتیاطی نوعیت کا تھا، جس میں ان کی قلبی صحت بہترین قرار پائی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی عمر کے افراد کے لیے اس طرح کے طبی معائنے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کا دورہ جاپان، سرمایہ کاری کے بجائے صحت موضوعِ بحث بن گئی
لیووٹ کے مطابق، 79 سالہ صدر ٹرمپ کے دل کی امیجنگ بالکل معمول کے مطابق رہی۔
Mr Trump underwent a magnetic resonance imaging scan during a recent medical evaluation, but did not disclose the purpose of the procedure, which is not typical for standard check-ups.
— breakingnews.ie (@breakingnewsie) December 1, 2025
انہوں نے بتایا کہ صدر کے دل کی شریانوں میں تنگی، خون کے بہاؤ میں رکاوٹ یا دل اور بڑی شریانوں میں کسی خرابی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ دل کے خانوں کا حجم معمول کے مطابق ہے۔
’شریانوں کی دیواریں ہموار اور صحت مند دکھائی دیتی ہیں، اور سوزش یا خون جمنے کے آثار موجود نہیں۔‘
مزید پڑھیں: کیا ڈونلڈ ٹرمپ ذہنی طور پر صحت مند ہیں؟ رپورٹ جاری
ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق مجموعی طور پر صدر ٹرمپ کا قلبی نظام بہترین حالت میں ہے۔ ان کے پیٹ کی امیجنگ بھی بالکل نارمل پائی گئی۔
ٹرمپ نے حالیہ طبی معائنے کے دوران ایم آر آئی کروایا تھا، تاہم اس کے مقصد کو ظاہر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ’امریکی صدر ٹرمپ انتقال کرگئے’ دعوے اور تصاویر وائرل ہونے لگیں
یہ طریقہ کار عام طبی معائنے میں شامل نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے یہ سوالات اٹھے کہ آیا وائٹ ہاؤس صدر کی صحت سے متعلق مکمل معلومات بروقت جاری کر رہا ہے یا نہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اپنی عمر اور صحت سے متعلق باتوں پر خاصے حساس ہیں۔
گزشتہ ہفتے انہوں نے ایک خاتون رپورٹر پر سوشل میڈیا کے ذریعے ذاتی حملہ کیا، جنہوں نے ایک رپورٹ میں یہ جائزہ لیا تھا کہ عمر کے اثرات ٹرمپ کی توانائی پر کس حد تک پڑ رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر امیجنگ ایم آر آئی پریس سیکریٹری خاتون رپورٹر دل ڈونلڈ ٹرمپ سوشل میڈیا صحت کیرولین لیووٹ وائٹ ہاؤس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ایم ا ر ا ئی پریس سیکریٹری خاتون رپورٹر ڈونلڈ ٹرمپ سوشل میڈیا وائٹ ہاؤس وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ کا
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔