بھارتی بچہ شطرنج کی تاریخ کا کم عمر کھلاڑی قرار!
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
بھارت سے تعلق رکھنے والا تین سالہ بچہ انٹرنیشنل چیس فیڈریشن (FIDE) کی جانب سے آفیشل ریٹنگ ملنے کے بعد شطرنج کی تاریخ کا سب سے کم عمر کھلاڑی بن گیا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق مدھیا پردیش کے علاقے ساگر سے تعلق رکھنے والے سروگیا سنگھ کُشواہا صرف تین سال سات ماہ اور 20 دن کے تھے جب ان کو FIDE کی جانب سے ریٹنگ دی گئی۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ کولکتہ کے انیش سرکار نے نومبر 2024 میں حاصل کیا تھا۔
اس رینکنگ کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی کھلاڑی کو FIDE سے منظور شدہ مقابلوں میں پانچ ریٹڈ کھلاڑیوں کے خلاف کھیلنا ہوتا ہے اور کم از کم ایک میچ ڈرا یا جیتنا ہوتا ہے، جو سروگیا نے مدھیا پردیش اور بھارت کے دیگر علاقوں میں منعقد ہونے والے مقابلوں میں تین مواقع پر کیا۔
تین سالہ کھلاڑی کا فی الحال نرسری میں داخلہ ہوا ہے لیکن ان کی ریٹنگ 1572 ہے جو کہ بہت سے بڑی عمر کے کھلاڑیوں سے بہتر ہے۔
فیڈریشن کی ریٹنگ 1400 سے شروع ہوتی ہے اور جو بھی اس حد سے نیچے جاتا ہے وہ ان ریٹڈ تصور کیا جاتا ہے۔ عالمی نمبر 1 اور لیجنڈ کھلاڑی میگنس کارلسن (جنہوں نے پہلی بار شطرنج پانچ برس کی عمر میں کھیلی) 2824 کی ریٹنگ کے ساتھ سرِ فہرست ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :