ازبکستان علاقائی روابط میں بہترین کردار ادا کرنے پر این ایل سی کی خدمات کا معترف
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
ازبکستان نے علاقائی روابط اور نئی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے پر این ایل سی کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں بہترین کارکردگی کے بعد دیگر ممالک بھی نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) کی خدمات کےمعترف ہوئے ہیں۔ بہترین کارکردگی پر ازبکستان میں این ایل سی کو سال کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی کمپنی کا ایوارڈ حاصل ہوا۔
ایوارڈ "بزنس مواقع اور بین الاقوامی کامیابی ایوارڈ 2025" کے موضوع پر تاشقند میں کانفرنس کے دوران دیا گیا۔ تقریب میں ازبکستان کے سینئر حکام، چیمبرز آف کامرس اور پاکستان کے سفارتی مشن کے اراکین نے شرکت کی۔
این ایل سی نے مئی 2023 میں ازبکستان کیلئے درآمدی و برآمدی سامان کی ترسیل کا آغاز کیا تھا۔ اب تک این ایل سی ازبکستان کیلئے ایک ہزار سے زائد آپریشنز کامیابی سے مکمل کر چکی ہے۔
این ایل سی نے ازبکستان تک 20 ہزار میٹرک ٹن ادویات، ٹیکسٹائل، چائے اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کو یقینی بنایا۔ اس کے علاوہ تقریباً 6000 میٹرک ٹن پھل، سبزیوں اور گوشت کی ترسیل بھی این ایل سی کی مربوط حکمت عملی سے ممکن ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایل سی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔