سیفٹی اصولوں کی خلاف ورزی پر نیشنل گرڈ کمپنی پر ایک کروڑ روپےجرمانہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے قواعد و ضوابط اور سیفٹی اصولوں کی خلاف ورزی پر نیشنل گرڈ کمپنی پر ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
نیپرا حکام کے مطابق کمپنی کو جھمپیر گرڈ اسٹیشن پر مطلوبہ کام مکمل نہ کرنے اور گرڈ و سیفٹی کوڈز پر عمل درآمد میں ناکامی کے باعث شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ ادارے نے کمپنی کو مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کیا، تاہم اس کے باوجود مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
اتھارٹی نے کمپنی کو ہدایت کی ہے کہ جھمپیر-II سے متعلق تمام کام مکمل کر کے اس کا تصدیقی سرٹیفیکیٹ جمع کرایا جائے، بصورت دیگر مزید جرمانے بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔
نیپرا نے نیشنل گرڈ کمپنی کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ عائد کیا گیا جرمانہ ایک ماہ کے اندر جمع کرایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کمپنی کو
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔