انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ، الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کیخلاف فیصلہ محفوظ کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ، الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کیخلاف فیصلہ محفوظ کر لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 25 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)الیکشن کمیشن نے وزیراعلی سہیل آفریدی کیخلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے وزیراعلی سہیل آفریدی کیخلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس کی سماعت ہوئی، سہیل آفریدی الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔
وکیل لیگی امیدوار نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل218 تھری کے تحت کمیشن کو کارروائی کا اختیار ہے، سہیل آفریدی خلاف کارروائی کی جائے۔الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ سہیل آفریدی کے خلاف الگ الگ درخواستیں آئیں، وکیل سہیل آفریدی علی بخاری نے کہا کہ ایک کیس ڈی آر او آفس اور ایک یہاں چل رہا ہے، ہمارے خلاف چاروں درخواستیں یکجا کر دیں۔
وکیل سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر حلقے سے باہر تقریر پری پول دھاندلی ہے توآپ نئی روایات ڈال رہے ہیں، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے آپ کے نکات نوٹ کر لئے ہیں، مناسب حکم جاری کریں گے، بعدا ازاں الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرن لیگ کو ووٹر کے بغیر الیکشن لڑنے کی عادت پڑ گئی ہے، چودھری پرویز الٰہی ن لیگ کو ووٹر کے بغیر الیکشن لڑنے کی عادت پڑ گئی ہے، چودھری پرویز الٰہی وزیراعظم کا دانش یونیورسٹی سائٹس کا دورہ، منصوبے کی شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت پاکستان اور ایران کا پارلیمانی اور عوامی سطح پر رابطوں کو فروغ دینے پر اتفاق عمران خان سے ملاقات کیلئے علیمہ خان کا اڈیالہ روڈ پر دھرنا، بڑی تعداد میں کارکنان جمع، نعرے بازی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے الوداعی ملاقات پاکستان میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 7.1فیصد ہوگئی، ملک میں تقریبا 80لاکھ افراد بے روزگار ہیں، سروے
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سہیل آفریدی کیخلاف فیصلہ محفوظ کر لیا الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کی نے کہا کہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔