فرانسیسی کمانڈر نے بھی پاکستان کے ساتھ جنگ میں بھارتی شکست کی تصدیق کردی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
فرانسیسی کمانڈر نے بھی پاکستان کے ساتھ جنگ میں بھارتی شکست کی تصدیق کردی WhatsAppFacebookTwitter 0 22 November, 2025 سب نیوز
امریکا کے بعد فرانسیسی کمانڈر کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے کہ مئی میں ہونے والی پاکستان کے ساتھ جنگ میں بھارت کے رافیل طیارے پاکستانی فضائی دفاع کے سامنے ناکام ہوئے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق 6 اور 7 مئی کو ہونے والی اس جنگ کو دنیا بھر کی افواج نے باریک بینی سے مانیٹر کیا، کیونکہ یہ جدید طیاروں، تربیت یافتہ پائلٹس اور ایئر ڈیفنس سسٹمز کی حقیقی جانچ کا غیر معمولی موقع تھا۔
فرانس کے شمال مغربی حصے میں واقع نیول ایئربیس کے کمانڈر کیپٹن یوک لونے نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ مسئلہ رافیل طیارے کی تکنیکی کمزوری نہیں تھا بلکہ اصل خرابی بھارتی پائلٹس کی مہارت میں تھی۔
واضح رہے کہ کیپٹن یوک لو اس بیس کی نگرانی کرتے ہیں جو جوہری صلاحیت رکھنے والے رافیل اسکواڈرن، متعدد جنگی جہازوں، آبدوزوں اور جدید طیاروں پر مشتمل ہے۔ 25 برس ست رافیل اڑانے والے تجربہ کار کمانڈر نے اعتراف کیا کہ پاکستانی فضائیہ نے صورتحال کو انتہائی منظم اور مؤثر انداز میں سنبھالا۔
انڈو پیسفک کانفرنس کے ایک بین الاقوامی اجلاس میں کیپٹن لونے نے واضح کیا کہ بھارتی رافیل چینی ٹیکنالوجی کی برتری کی وجہ سے نہیں بلکہ پاکستان کی حکمتِ عملی، مضبوط دفاع اور بروقت ردعمل کے باعث گرے۔
انہوں نے بتایا کہ اس رات 140 سے زائد لڑاکا طیارے فضا میں موجود تھے، جس نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا تھا، مگر پاکستان نے اسے بھارت سے کہیں بہتر انداز میں ہینڈل کیا۔ بھارتی مندوب نے اس بیان کو چینی پروپیگنڈا قرار دے کر روکنے کی کوشش کی، تاہم فرانسیسی کمانڈر نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔
کیپٹن لونے نے تصدیق کی کہ رافیل کا ریڈار سسٹم ناکام نہیں ہوا بلکہ اسے چلانے والے کی کمزوری مسئلے کی جڑ تھی۔ انہوں نے کہا کہ رافیل کسی بھی جنگی میدان میں چینی طیاروں کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر سب کچھ آپریٹر کی تربیت اور فیصلوں پر منحصر ہوتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھارت اب سمندر میں تعیناتی کے لیے رافیل کے نیول ورژن میں دلچسپی دکھا رہا ہے، جو ایئرکرافٹ کیریئر پر لینڈنگ کے قابل ہے اور جوہری ہتھیار بھی لے جا سکتا ہے، تاہم یہ صلاحیت اس وقت صرف فرانسیسی بحریہ کے پاس موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ فضائی جھڑپ عالمی سطح پر اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ اس میں طیاروں، پائلٹس اور ائیر ٹو ائیر میزائلوں کی کارکردگی حقیقی جنگی ماحول میں جانچی گئی، جس سے مستقبل کی فضائی حکمتِ عملی کے لیے اہم نتائج اخذ کیے جا رہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفیصل آباد: فیکٹری میں دھماکا کیسے ہوا؟ رپورٹ سامنے فیصل آباد: فیکٹری میں دھماکا کیسے ہوا؟ رپورٹ سامنے میئر نیویارک کی امریکی صدر سے ملاقات،اسرائیلی فنڈنگ روکنے کا مطالبہ دبئی ائیر شو، بھارتی لڑاکا طیارہ گرنے کے بعد ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے شیئرز بھی گرگئے دبئی ائیر شو میں طیارہ گرنے کا واقعہ، بھارتیوں کی اپنی فضائیہ پر تنقید، ائیر چیف کے استعفے کا مطالبہ دبئی ائیر شو، تیجس طیارے کی تباہی نے بھارتی دفاعی سازوسامان کی صلاحیتوں پر سوالات اٹھا دیے بھارتی جنگی طیارہ تیجس کیوں تباہ ہوا؟ ممکنہ وجوہات سامنے آگئیںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔