امریکا: پالتو کتے نے دنیا کی سب سے لمبی زبان کا ریکارڈ بنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا میں ایک پالتو کتے نے اپنی غیر معمولی جسمانی خصوصیت کی بدولت دنیا بھر میں توجہ حاصل کر لی ہے۔ اوکلاہوما کے ایک خاندان کے پالتو کتے ’’اوزی‘‘ نے زندہ کتوں میں سب سے لمبی زبان رکھنے کا نیا گینیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے۔
گینیز حکام کے مطابق اوزی کی زبان کی لمبائی 7.
یہ منفرد ریکارڈ اس سے قبل الی نوائے کے شہر بلومنگٹن کے کتے ’’راکی‘‘ کے پاس تھا جس کی زبان 5.46 انچ لمبی تھی اور اس نے یہ اعزاز 2023 میں حاصل کیا تھا۔ اوزی نے یہ ریکارڈ نہ صرف توڑ دیا بلکہ نئے عالمی معیار کو بھی تقریباً دو انچ سے زیادہ پیچھے چھوڑ دیا۔
اوزی کی مالکن اینجلا پِک کا کہنا ہے کہ ان کے کتے کی یہ خصوصیت پیدائش کے دن سے ہی سب کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ ’’جب اوزی چھوٹا تھا تو ہم سمجھتے تھے شاید یہ بڑوں کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گا، مگر اس کی زبان ہمیشہ باہر رہتی تھی،
اینجلا پِک نے بتایا کہ اوزی دو مرتبہ ویٹرنری ڈاکٹروں کے تفصیلی معائنے سے بھی گزر چکا ہے، تاہم ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ اسے کوئی طبی مسئلہ لاحق نہیں اور اس کی طویل زبان صرف ایک قدرتی جینیاتی خصوصیت ہے۔
گھر والوں کے مطابق اوزی اپنی لمبی زبان کے باوجود نہ صرف صحت مند ہے بلکہ بہت زیادہ چُست، کھیل کود پسند کرنے والا اور بے حد دوستانہ مزاج رکھتا ہے، اس کی روزمرہ زندگی میں صرف اتنی احتیاط کی جاتی ہے کہ وہ کھیلتے ہوئے زبان زخمی نہ کر بیٹھے۔
گینیز ورلڈ ریکارڈ میں نام شامل ہونے کے بعد اوزی اب عالمی سطح پر ان چند منفرد جانوروں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے اپنی غیر روایتی خصوصیات کے باعث دنیا بھر کے لوگوں کو حیران کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔