روسی صدر ولادیمیر پوتن اپنے ہندوستان دورے پر نئی دہلی پہنچے، نریندر مودی نے کیا استقبال
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
روس کو ہندوستانی برآمدات بڑھانے کیلئے کئی راستے تلاش کئے جارہے ہیں، فارماسیوٹیکل، ہندوستانی مصنوعات، آٹوموٹو اور تجارتی مصنوعات کے شعبوں میں برآمدات بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نئی دہلی پہنچ چکے ہیں۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے پالم ایئرپورٹ پر روسی صدر کا استقبال کیا۔ ایئرپورٹ سے دونوں لیڈر ایک ہی گاڑی میں سوار ہوکر نکلے۔ پوتن تقریباً 30 گھنٹے ہندوستان میں قیام کریں گے۔ امریکہ بھارت تجارتی معاہدے کی ناکامی کے بعد روسی صدر کا بھارت دورہ کافی اہمیت کا حامل مانا جارہا ہے۔ اس دورے میں دفاع سمیت کئی اہم معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔ پوتن کے دورے پر پوری دنیا کی نظر ہے۔ پوتن کے دورے کے بارے میں ہندوستانی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دورہ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔ پوتن کاروباری افراد کے ایک بڑے گروپ کے ساتھ بھارت پہنچے ہیں۔
ہندوستان روس کے ساتھ تجارتی خسارے کو بہتر کرنے کی امید رکھتا ہے۔ روس کو ہندوستانی برآمدات بڑھانے کے لئے کئی راستے تلاش کئے جارہے ہیں۔ فارماسیوٹیکل، ہندوستانی مصنوعات، آٹوموٹو اور تجارتی مصنوعات کے شعبوں میں برآمدات بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ مصنوعات کو ایک بڑی مارکیٹ ملے گی اور اس سے ہمارے کسانوں کی فلاح و بہبود میں بھی اضافہ ہوگا، توقع ہے کہ جہاز رانی، صحت کی دیکھ بھال، کھاد اور کنیکٹیویٹی کے شعبوں میں مزید تعاون، نقل و حرکت اور تعاون کی ثقافت میں بھی اضافہ ہوگا۔
ممبئی میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے چیئرمین وجے کلانتری نے کہا کہ یہ پوتن کا تاریخی دورہ ہے، یہ سچ ہے کہ تجارتی خسارہ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے، کیونکہ تجارت اب 65 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور اگلے سال 100 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ بھارت کی مارکیٹ بڑھ رہی ہے، اس لئے روس بھی اس میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے، وہ بھارت کے ساتھ اپنی تجارت کو بڑھانا چاہتے ہیں اور ہمیں روس پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں سچے دوست کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: برآمدات بڑھانے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔