چیف آف ڈیفنس فورسز کا بہت ہی اہمیت کا حامل ادارہ بننے جا رہا ہے: رانا ثناء اللّٰہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
رانا ثناء اللّٰہ—فائل فوٹو
وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشیر برائےسیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا حساس اور قومی سیکیورٹی کے حوالے سے بہت ہی اہمیت کا حامل ادارہ بننے جا رہا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کےعہدے کے لیے قانون تبدیل کیا گیا، سی ڈی ایف کے لیے ریگولیشنز اور رولز فریم ہونے ہیں۔
رانا ثناء اللّٰہ نے بتایا کہ سی ڈی ایف کے رولز کے لیے بہت زیادہ احتیاط درکار ہے، اس کے نوٹیفکیشن میں تاخیر سے متعلق قیاس آرائیوں میں صداقت نہیں، سی ڈی ایف کے نوٹیفکیشن کو کسی چیز سے جوڑنا مناسب نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر بیرونِ ملک سے پاکستان مخالف مواد پھیلانے والے افراد کی فہرست میں اضافہ ہو گا، قومی سلامتی سے متعلق بیرونِ ملک سے پروپیگنڈا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور نے کچھ چیزیں کرنے سے انکار کیا اس لیے ان کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو لایا گیا۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ بیرونِ ملک سیکیورٹی اداروں سے متعلق نفرت انگیز مواد روکنا حکومت کی ذمے داری ہے، قومی سلامتی سے متعلق پروپیگنڈا کرنے کی کوئی بھی قانون اجازت نہیں دیتا۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی اگر نیشنل سیکیورٹی کے راستے میں حائل ہوئے تو ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو گا، انہوں نے دہشت گردی کے آپریشن میں رکاوٹیں ڈالیں اور دہشت گردوں کی سہولت کاری کی تو ان کا کوئی مستقبل نہیں۔
رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ اگر سہیل آفریدی تقریروں کی حد تک سیاست کرتے ہیں تو اس کی اجازت ہونی چاہیے، سابق وزیرِ اعظم کے پروٹوکول کے مطابق بی کلاس اور سہولتیں بانیٔ پی ٹی آئی کا حق ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم ایسے کوئی اقدامات نہیں کریں گے جس سے سابق وزیرِ اعظم کی عزت میں کمی ہو، نواز شریف کو قید کے وقت اس وقت کی حکومت نے قانون کے مطابق سہولت نہیں دی تھی۔
وزیرِ اعظم کے مشیر برائےسیاسی امور نے کہا کہ سہیل آفریدی بانیٔ پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقات کی حد تک رہیں تو ملاقات سے نہیں روکنا چاہیے، بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات احتجاج، حکومت کے خلاف تحریک، دہشت گردی کی سہولت کاری کے بارے میں ہے تو ملاقات نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق فیض حمید سے متعلق فیصلہ اسی ماہ دسمبر میں آ جائے گا، فیض حمید کی سزا سے متعلق کوئی پیشگوئی نہیں کرنی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رانا ثناء الل کا کہنا ہے کہ سہیل ا فریدی سی ڈی ایف نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔