پاکستان نے ترکیہ کی کمپنیوں کو تین بجلی گھر خریدنے کی پیش کش کردی۔

یہ پیشرفت اُس وقت سامنے آئی جب وزیر توانائی اویس لغاری اور ترک ہم منصب الپرسلان بیرکتار سے ملاقات ہوئی۔ جس میں توانائی کے شعبے اور بالخصوص ڈسکوز کی نجکاری کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر توانائی نے ترک ہم منصب کو پاورسیکٹر کے اداروں میں جاری اصلاحات اور سرمایہ کاری کےمواقع پر بریفنگ دی اور بتایا کہ حکومت پہلے مرحلے میں تین بجلی کمپنیوں کی نجکاری کرنے جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان ڈسکوز کی نجکاری میں  تجربہ کارعالمی سرمایہ کاروں کی شمولیت کا خواہش مند ہے، وسیع تجربے کی حامل ترک کمپنیوں کی شمولیت بہت اہم ہوگی۔

وزیر توانائِی نے پاکستانی ماہرین کو ترک پاورسیکٹر کے مشاہدے کی اجازت دینے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ڈسکوز کی نجکاری کے سلسلے میں سرمایہ کاروں کے لیے اظہاردلچسپی جلدجاری کئے جائیں گے۔

اویس لغاری نے نجکاری کے عمل میں دونوں ممالک کے اداروں اور ماہرین کی قریبی مشاورت پر زوردیا۔

ترجمان وزارت توانائی کے مطابق وزیر توانائی نے خصوصی طور پر ترکی کے نافذ کردہ رعایتی ماڈل کا حوالہ دیا اور انسانی وسائل کی بہتری کیلیے ترکیہ کے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

اویس لغاری نے کہا کہ پاور ڈویژن ایک مربوط توانائی منصوبے پر کام کررہاہے، پاکستان ترکی سے اس منصوبے کی تیاری میں معاونت کا خواہشمند ہے۔

ترک وزیرِ توانائی نے پاکستان میں پرتپاک مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ترک سرمایہ کار پاکستان کے پاور سیکٹر کی نجکاری کے عمل کو گہری دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اُمید ہے کہ ترک سرمایہ کارپاکستان کے پاورسیکٹر کی نجکاری کے عمل میں مناسب سطح پر حصہ لیں گے۔

علاوہ ازیں وزیر توانائی اویس لغاری سے کرغز ہم منصب نے ملاقات کی جس میں وزیر توانائی کی وسطی ایشیائی ریاستوں کے اشتراک سے کاسا انرجی مارکیٹ کے قیام کی تجویز سامنے آئی۔

اعلامیے کے مطابق انرجی مارکیٹ سے خطے کے تمام ممالک کو توانائی کے شعبے میں صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع ملے گا، فریقین نے کاسا 1000 منصوبے پر عملدرآمد میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔

ملاقات میں مشترکہ حکمت عملی کے قیام کے لئے ماہرین پر مشتمل اعلی سطح کے اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا جس میں پاکستان کرغزستان تاجکستان اور ورلڈ بینک کے ماہریں شریک ہوں گے۔

وزیر توانائی نے کہا ہک کاسا 1000 منصوبے پر عملدرآمد کے لئے عملی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے، تمام ممالک اس منصوبے معاشی طور پرقابل عمل بنانے کےلئے آپس میں تعاون کریں۔

وزیر توانائی نے کرغز چائنہ ٹرانسمشن پراجیکٹ میں شمالی علاقہ جات کو شامل کرنے کی تجویز دی اور مستقبل میں شعبہ توانائی میں دوطرفہ تعاون کے لئے پانچ نکاتی فریم ورک پیش کیا۔

وزارت توانائی کے اعلامیے کے مطابق  پن بجلی منصوبوں میں تکنیکی تعاون کے تبادلے کے لئے مشترکہ ورکنگ گروپ کی تشکیل کی تجویز بھی سامنے آئی جبکہ ورکنگ گروپ سے کاسا 1000 منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے مشترکہ کوششیں کی جاسکیں گی۔

اعلامیے کے مطابق شمالی علاقہ جات کو چین کرغزستان گرڈ سٹیشن انٹرکنکشن میں شامل کرنے کے حوالے سے بھی سہولت حاصل ہوگی، وزیرتوانائی نے علاقائی روابط کے فروغ کے لئے افغانستان کو انگیج کرنے میں کرغزستان کے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

کرغز وزیر توانائی نے کہا کہ کرغزستان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لئے ہرقسم کے تعاون کے لئے تیار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیر توانائی نے کی نجکاری کے اویس لغاری توانائی کے کے مطابق کے لئے کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟

وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے ساتھ ہی قابل تجدید توانائی کے شعبے، بالخصوص سولر انڈسٹری کی نظریں حکومت کے ممکنہ ٹیکس اقدامات پر مرکوز ہیں۔

ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں اور توانائی کے بحران کے باعث سولر توانائی کی جانب رجحان تیزی سے بڑھا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سولر پینلز یا متعلقہ آلات پر نئے ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ صنعت کی ترقی اور صارفین کی دلچسپی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم، عوام کو سولر سسٹمز پر ریلیف برقرار

بجٹ میں سولر پنیلز پر ٹیکسز میں اضافے کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔

وی نیوز نے سولر انڈسٹری کے ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سولر پینلز پر ٹیکس کتنے فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے، اور اس سے سولر پینلز کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟

ٹیکس کی شرح بڑھی تو قیمتوں میں اضافہ ہو جائےگا، شرجیل احمد

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سولر مارکیٹ کے ماہر شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں مختلف خبریں گردش کررہی ہیں کہ آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے۔ یعنی 8 فیصد فیصد اضافہ متوقع ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو سولر پینلز اور سولر سسٹمز کی قیمتوں میں کم از کم 10 سے 12 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑےگا اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

شرجیل احمد سلہری نے کہاکہ پاکستان کے برعکس دنیا کے بیشتر وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہیں، وہاں گرین انرجی کی مصنوعات اور منصوبوں پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔

ان کے مطابق ایسے ممالک سولر اور دیگر متبادل توانائی کے ذرائع کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مختلف مراعات فراہم کرتے ہیں تاکہ صاف اور سستی توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

’سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے‘

انجینیئر محمد حمزہ رفیع کے مطابق آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

محمد حمزہ رفیع کے مطابق اگر ایسا ہو جاتا ہے تو سولر پینلز کی قیمت فی واٹ 8 سے 15 روپے تک بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہاکہ قیمتوں میں اضافے سے سولر توانائی کی جانب منتقل ہونے والے نئے صارفین کی حوصلہ شکنی ہوگی، کیونکہ ملک میں پہلے ہی سولر پینلز سے منسلک حکومتی پالیسیوں نے عوام کے لیے سولر پینلز کی تنصیب کو ایک مشکل فیصلہ بنا دیا ہے۔

’ٹیکس بڑھنے کی خبروں میں سولر انڈسٹری میں تشویش‘

پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر ٹیکس میں ممکنہ اضافے کی تجویز پر انڈسٹری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سولر پینلز پر موجودہ 10 فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کے دباؤ کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے انڈسٹری کی کوشش ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے اس شعبے پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔

حسنات خان کے مطابق اگر ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر سولر سسٹمز کی قیمتوں پر پڑے گا اور صارفین کے لیے صاف توانائی حاصل کرنا مزید مہنگا ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں: سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کے ذریعے توانائی کے حصول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں توانائی کا بحران اور بجلی کی بلند قیمتیں پہلے ہی بڑا مسئلہ ہیں، وہاں سولر انرجی کو مزید مہنگا کرنا توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈسٹری حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ سولر انرجی کو ریلیف دیا جائے ورنہ کم از کم ٹیکس کو نہ بڑھایا جائے تاکہ عوام سستی اور ماحول دوست توانائی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ٹیکس میں اضافہ سولر انڈسٹری وفاقی بجٹ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ