حکومت کا زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کیخلاف کارروائی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
راؤ دلشاد:حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کرایوں میں کمی یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو متحرک کر دیا۔
وزیر ٹرانسپورٹ نے پیٹرولیم قیمتوں کے مطابق نئی کرایہ لسٹ جاری کرنے کی ہدایات دیتے ہوئے متعلقہ افسران کو فیلڈ میں سرگرم رہنے کا حکم دیا ہے۔ ان کی ہدایات پر کرایوں میں کمی کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جبکہ تمام ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کو فوری اقدامات کر کے رپورٹ جمع کرانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
لکی مروت: پولیس موبائل پر خودکش حملہ، ایک اہلکار شہید، 6 زخمی
بلال اکبر خان نے واضح کیا ہے کہ شہریوں سے زائد کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور قانون پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔