امریکا نے افغانستان سمیت 19 غیر یورپی ممالک کے شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل کردیں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان سمیت 19 غیر یورپی ممالک کے شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستیں، جن میں گرین کارڈ اور امریکی شہریت کی کارروائیاں بھی شامل ہیں، عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ فیصلہ ‘قومی سلامتی اور عوامی تحفظ’ کے تحت کیا گیا ہے۔ یہ وہی ممالک ہیں جن پر جون میں پہلے ہی جزوی سفری پابندیاں عائد کی گئی تھیں، تاہم نئی پالیسی کے بعد ان ممالک سے آنے والی قانونی امیگریشن پر مزید سختیاں نافذ ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: صدر ٹرمپ کا امیگریشن کا عمل مستقل روکنے کا اعلان اور ’ریورس مائیگریشن‘ پر زور
حالیہ حملے کے بعد سخت اقداماتسرکاری میمورنڈم میں واشنگٹن میں نیشنل گارڈ اہلکاروں پر گزشتہ ہفتے ہونے والے حملے کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں ایک افغان نژاد شخص کو گرفتار کیا گیا۔ اس واقعے میں ایک گارڈ ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوا۔
صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں صومالی تارکینِ وطن کے خلاف سخت بیانات بھی دیے، انہیں ’گاربج‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم انہیں اپنے ملک میں نہیں چاہتے‘۔
قانونی امیگریشن پر بھی کریک ڈاؤنجنوری میں دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ نے امیگریشن نافذ کرنے کے اقدامات میں تیزی لائی ہے، وفاقی ایجنٹس کی تعیناتی سے لے کر میکسیکو سرحد پر پناہ گزینوں کی واپسی تک متعدد سخت اقدامات کیے گئے۔ تاہم اولین بار یہ کریک ڈاؤن قانونی امیگریشن تک باضابطہ طور پر پہنچا ہے۔
نشانہ بننے والے ممالکمیمورنڈم میں درج 19 ممالک میں شامل ہیں۔ سب سے سخت پابندیوں والے ممالک میں افغانستان، برما، چاڈ، کانگو، ایکویٹوریل گنی، اریٹریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ٹیکساس: بم بنانے اور خودکش حملے کی دھمکی دینے والا افغان گرفتار
جزوی پابندی والے ممالک میں برونڈی، کیوبا، لاؤس، سیرالیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینزویلا شامل ہیں۔
تمام درخواستوں کی دوبارہ جانچ لازمنئی پالیسی کے مطابق ان ممالک کے شہریوں کی زیر التوا درخواستیں روک کر ان کی ‘مکمل از سرِ نو جانچ’ کی جائے گی۔ بوقتِ ضرورت دوبارہ انٹرویو بھی لیا جائے گا تاکہ سیکیورٹی خدشات کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
امریکن امیگریشن لائرز ایسوسی ایشن کے مطابق ان ممالک سے تعلق رکھنے والوں کے شہریت کے حلف برداری کے پروگرام، نچرالائزیشن انٹرویوز اور اسٹیٹس ایڈجسٹمنٹ کی ملاقاتیں منسوخ کیے جانے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: افغان شہری کی فائرنگ، غیرقانونی تارکین وطن امریکا کیلیے خطرہ بنتے جارہے ہیں، ٹرمپ
اس فیصلے کے بعد لاکھوں درخواست گزار غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہو گئے ہیں، جبکہ ناقدین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس پالیسی کو قومی سلامتی کے نام پر قانونی امیگریشن محدود کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان شہری امریکا امیگریشن ویزا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان شہری امریکا امیگریشن ویزا قانونی امیگریشن شامل ہیں کے بعد
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔