پناہ گزینوں کی درخواستوں پر پابندی طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کی درخواستوں پر فیصلوں کی معطلی غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتی ہے، کیونکہ اس پابندی کے لیے کوئی ٹائم فریم مقرر نہیں کیا گیا۔
ائیر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا پہلے ہی بہت سے مسائل سے دوچار ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ مزید لوگ ملک میں داخل ہوں۔
انہوں نے بعض ترقی پذیر ممالک کو جرائم کا گڑھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ممالک جنہیں اپنے ہی شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت نہیں، ان کے لوگوں کی امریکا کو بھی ضرورت نہیں۔
گفتگو کے دوران ٹرمپ نے ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر پر بھی تنقید کی، جو امریکا کی پہلی صومالی نژاد کانگریس ممبر ہیں اور تقریباً بیس سال پہلے پناہ گزین کی حیثیت سے امریکا آئی تھیں۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی صومالیہ کو ان ممالک کی مثال کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں جن کے شہریوں کی ہجرت پر وہ اعتراض کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا نے دو روز قبل پناہ گزینوں سے متعلق تمام فیصلے عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز