صدر ٹرمپ رواں ہفتے فیفا ورلڈ کپ کے فائنل ڈرا میں شریک ہوں گے، وائٹ ہاؤس
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے کے اختتام پر واشنگٹن میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل ڈرا میں شرکت کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق جمعہ کو صدر ٹرمپ کینیڈی سینٹر میں فیفا ورلڈ کپ فائنل ڈرا میں شرکت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ نے ورلڈ کپ شائقین کے لیے ’فیفا پاس‘ متعارف کرنے کا اعلان کردیا
امریکا اگلے سال اپنی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے ساتھ ساتھ ورلڈ کپ 2026 کو اپنی صدارت کا مرکزی ایونٹ قرار دے رہا ہے۔ امریکا یہ ٹورنامنٹ کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ مشترکہ طور پر میزبانی کر رہا ہے۔
اگرچہ ورلڈ کپ کو ایک عالمی جشن سمجھا جا رہا ہے، لیکن ایونٹ امریکا میں جاری سیاسی کشیدگی سے محفوظ نہ رہ سکا ہے۔ صدر ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں خصوصاً غیر قانونی تارکینِ وطن اور بعض ڈیموکریٹک اکثریتی شہروں میں مبینہ جرائم کے بارے میں ان کے بیانات نے کھیلوں کے اس بڑے ایونٹ کو بھی سیاسی بحث کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ٹرمپ نے چند بار یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر بعض امریکی میزبان شہروں میں جرائم اور غیر قانونی نقل مکانی کے مسائل حل نہ ہوئے تو وہ کچھ میچز ان شہروں سے منتقل کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ’پاکستان میں فٹبال کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے‘، فیفا نائب صدر کا اعلان
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح کے اس بڑے ٹورنامنٹ کے لیے صدر ٹرمپ کی موجودگی امریکی سفارت کاری، عالمی امیج اور اندرونی سیاست پر اثر ڈال سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک اندرونی تقسیم اور سخت پالیسی مباحث کا سامنا کر رہا ہے۔
ورلڈ کپ کا فائنل ڈرا اس جمعہ کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا، جس کے لیے سیکیورٹی اور انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
فٹ بال فیفا ورلڈکپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فٹ بال فیفا ورلڈکپ فیفا ورلڈ فائنل ڈرا ورلڈ کپ رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کے وژنری اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔ ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔