پاکستان کی باہمت بیٹی علینہ اظہر مراکش یوتھ کانگریس میں غزہ کی طاقتور آواز بن گئیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
لاہور:
پاکستان کی باہمت بیٹی علینہ اظہر مراکش یوتھ کانگریس میں غزہ کے مظلوموں کے لیے طاقتور آواز بن گئیں۔
مراکش میں منعقدہ انٹرنیشنل یوتھ کانگریس میں لاہور سے تعلق رکھنے والی نوجوان سماجی کارکن اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کی نمایاں آواز، علینہ اظہر نے غزہ کے انسانی المیے اور فلسطینیوں کے حقِ زندگی کے لیے دنیا بھر کے نوجوانوں کی یکجہتی کو اجاگر کیا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان آزاد اور خود مختار فلسطین کا حامی ہے اور غزہ میں ہزاروں بچے اور خاندان جنگ سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ علینہ اظہر کے مطابق عالمی نوجوان ہیومین رائٹس ایکٹویسٹ اس وقت ایک مشترکہ انسانی مقصد کے تحت اکٹھے ہو رہے ہیں تاکہ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
انٹرنیشنل رباط یونیورسٹی میں ہوئی اس یوتھ کانگریس کا اہتمام وائس فور رائٹس انٹرنیشنل، یوتھ کانگریس مراکش اور انٹرنیشنل رباط یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر کیا، جس میں پاکستان اور بھارت سمیت مختلف خطوں سے آئے نوجوان انسانی حقوق کے کارکنوں نے شرکت کی۔
علینہ اظہر کم عمری میں نمایاں سماجی خدمات اور لیڈی ڈیانا ایوارڈ سمیت متعدد بین الاقوامی اعزازات حاصل کرنے والی نوجوان پاکستانی خواتین میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایسے ماحول میں پلی بڑھیں جہاں معاشرتی عدم استحکام اور تشدد عام تھا، جبکہ 16 برس کی عمر میں والد کے انتقال نے ان کی زندگی پر گہرا اثر چھوڑا۔ اس صدمے کو انہوں نے کمزوری کے بجائے اپنی قوت میں بدلا اور فیصلہ کیا کہ وہ دوسروں کے لیے سہارا بنیں گی۔
اسی جذبے کے تحت انہوں نے 18 برس کی عمر میں آسرا پاکستان قائم کیا، جو بزرگ شہریوں، یتیم بچوں، کچی آبادیوں میں رہنے والے خاندانوں، ٹرانس جینڈر کمیونٹی اور دیگر کمزور طبقات کے لیے مدد اور تحفظ کا ذریعہ ہے۔ بعدازاں 22 برس کی عمر میں انہوں نے آسرا ترکی کی بنیاد رکھی، جو استنبول میں شامی مہاجر خاندانوں کو خوراک، گرم لباس، حفظانِ صحت کی اشیا اور دیگر ضروری سامان فراہم کرتا ہے۔
علینہ اظہر نے نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ انسان ٹوٹ کر بھی دوبارہ جڑ سکتا ہے، تنہا ہو کر بھی اٹھ سکتا ہے اور سب کچھ کھو دینے کے باوجود نئی سمت پیدا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقی تبدیلی کے لیے کسی منصب یا منظوری کی نہیں بلکہ حوصلے اور یقین کی ضرورت ہوتی ہے۔
انٹرنیشنل یوتھ کانگریس میں ان کی شرکت کو پاکستان کی نوجوان نسل کی مؤثر نمائندگی قرار دیا گیا۔ ان کے خطاب کو انسانی حقوق، سماجی انصاف اور نوجوانوں کے کردار کے حوالے سے ایک واضح اور بامعنی پیغام سمجھا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ کانگریس کے دوران انہوں نے ٹی آر ٹی ورلڈ کے ایک پروگرام میں بھی شرکت کی، جہاں ان کی ملاقات اسکاٹ لینڈ کے سابق فرسٹ منسٹر حمزہ یوسف، ترکیہ کے نائب وزیرِ خارجہ نو یلماز اور ترک صدر کے خارجہ پالیسی و سیکیورٹی کے مشیر آقِف چاعتائے قلیچ سے ہوئی۔ اس ملاقات میں غزہ اور فلسطین کی موجودہ صورتحال، انسانی بحران اور عالمی برادری کی ذمہ داریوں پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ علینہ اظہر کے مطابق فلسطین کا مسئلہ صرف سیاسی تنازع نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یوتھ کانگریس میں علینہ اظہر انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔