WE News:
2025-11-30@12:02:21 GMT

الحمرا صوفی فیسٹیول: صوفیانہ عظمتوں کی آواز

اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT

الحمرا صوفی فیسٹیول: صوفیانہ عظمتوں کی آواز

پنجاب کی سرزمین ازل سے صوفی درویشوں کی نسبتوں اور روحانی حسن سے منور رہی ہے، یہاں کے صوفیانہ رنگ، محبت، رواداری اور انسان دوستی کی وہ روایت ہیں جنہوں نے نسلوں کے باطن کو روشن رکھا۔ اسی سلسلے کی تجدیدِ نو کے لیے وقت کو ایک ایسے صوفی فیسٹیول کی ضرورت تھی جو نہ صرف تہذیبی ورثے کو اجاگر کرے بلکہ آج کے بے چین معاشرے کو فکر و محبت کا نیا مرکز بھی دے۔

لاہور آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد محبوب عالم چوہدری نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے صوفی فیسٹیول نہ صر ف خواب دیکھا بلکہ اس کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے شب و روز ایک کر دیے، پھر بالآخر یہ ایسا تاریخ ساز فیسٹیول تاریخ کے دھارے پر رقم ہوا جس کو دیکھنے والے مدتوں یاد رکھیں گے۔

اپنی صدارتی گفتگو میں محمد محبوب عالم چوہدری نے کہا کہ میں محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت محترمہ عظمی بخاری کا شکر گزار ہوں، سیکریٹری اطلاعات و ثقافت پنجاب سید طاہر رضا ہمدانی کا ممنون ہوں، چیئرمین الحمرا رضی احمد کا بھی مشکور ہوں، اور اس کے ساتھ ساتھ تمام مدعو شعرا، اسکالرز، پنجابی صوفیہ کرام اور شریکانِ فیسٹیول کا تہِ دل سے شکر گزار ہوں جن کے بھرپور تعاون سے یہ فیسٹیول کامیابی کے ساتھ ہمکنار ہوا۔

الحمرا صوفی فیسٹیول کے پہلے روز گفتگو کے سیشن ہوئے، قوالی پیش کی گئی، نمائش لگائی گئی، کھیل ’مقصود کل میں ہوں‘ پیش کیا گیا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا محمدمحبوب عالم چوہدری نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ یہ دھرتی صوفیا کرام کی سرزمین ہے، ہمیں اپنے صوفیا کرام کی تعلیمات کی پیروی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنی چاہیے۔ فیسٹیول میں نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر خوشی ہوئی، میں اپنے نوجوان سے پُرامید ہوں۔

محمد محبوب عالم چوہدری نے ’نوجوانوں کے فکری مسائل اور واصف علی واصف‘ کے سیشن سے تمام پینلسٹ کو سوونیئر دیے۔ اس سیشن میں تحت اللفظ کو عمران جعفری نے پیش کیا۔ سیشن کو محمد نور الحسن نے ماڈریٹ کیا۔ صاحبزادہ کاشف محمود، ڈاکٹر وسیم اللہ شاہین، افتخار احمد عثمانی، ڈاکٹر عفا ن قیصر نے بطور مندوب شرکت کی اور اظہار خیال کیا۔

کھیل ’مقصود کل میں ہوں‘ میں نوجوان اداکاروں کی پرفارمنس دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ نمائش، کتب میلہ میں عوامی شرکت خوش آئند تھی۔ نامور ماہر ابلاغ قاسم علی شاہ کا اہم فکری نشست میں اظہار خیال نوجوانوں کے لئے کامیابیوں کو سمیٹنے کا ذریعہ ثابت ہوا۔

الحمرا ہال نمبر میں منعقد یہ سیشن نوجوانوں سے بھرا ہوا تھا۔ الحمرا ہال نمبر 2 کے پوڈیم پر نامور قوال ندیم جمیل، کی ساتھیوں کے ہمراہ پرفارمنس نے سماں باندھ لیا۔

الحمرا صوفی فیسٹیول کے موقع پر الحمرا کو خوبصورت صوفی رنگوں سے سجایا گیا ہے۔ فیسٹیول کے پہلے روز ہزاروں کی تعداد میں شہریوں کی شرکت نے الحمرا انتظامیہ کے دل جیت لیے۔ الحمرا صوفی فیسٹیول اسی آب وتاب سے 3 روز تک جاری رہے گا۔

سہ روزہ الحمرا صوفی فیسٹول کے دوسرے روز کی سرگرمیاں عروج پر پہنچ رہیں۔ الحمرا میں تاریخ ساز تعداد میں شرکا الحمرا صوفی فیسٹول دیکھنے آئے۔ فیسٹول کے دوسرے روز کا آغاز ایک اہم فکری نشست بعنوان ’پنجابی صوفی شاعری میں نوجوانوں کے لیے پیغام‘ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں نامور اسکالرز، پنجابی دان نین سکھ، ڈاکٹر صغری صدف، ڈاکٹر امداد حسین، یوسف پنجابی نے اظہار خیال کیا۔ سیشن کو افضل ساحر نے ماڈریٹ کیا۔

محمد محبوب عالم چوہدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ تصوف، اسلام کا ثقافتی اظہار ہے، خود شناسی، تصوف کی ابتدائی منزل ہے، یہ معاشرہ میں پیار و محبت، بھائی چارے کا ضامن ہے۔

الحمرا ہال نمبر 2 میں حاضرین کی بہت بڑی تعداد نے گفتگو کے اس سیشن میں شرکت اور سوال و جواب بھی کیے۔ صوفی فیسٹیول میں نامور صوفی گائیک تحسین سکینہ نے ساتھیوں کے ہمراہ صوفیانہ کلام پیش کیے اور الحمرا ہال نمبر میں عوام کی تاریخ ساز تعداد نے ان کو داد دی جس سے ان کے حوصلے میں اضافہ ہوتا وہ بھرپور انداز میں تازہ دم ہوکر شاندار پرفارمنس پیش کرتی رہیں۔

واضح رہے الحمرا صوفی فیسٹول وقت کی آواز بن کر سامنے آیا ہے جس میں نوجوان نسل نے شرکت کرکے اسے لازوال بنا دیا ہے۔ صوفی فیسٹیول میں برصغیر کے عظیم صوفیا کرام حضرت علی ہجویری داتا گنج بخشؒ، حضرت بابا فریدالدین گنج شکرؒ، حضرت سلطان باہوؒ، حضرت شاہ حسینؒ، حضرت بلھے شاہؒ، میاں محمد بخشؒ، وارث شاہؒ، پیر مہر علی شاہؒ اور صوفی شاعری کے دیگر درجنوں روشن چراغوں کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

ان کی تعلیمات کے حسن، ان کے پیغامِ محبت، ان کے کلام کے کرکس اور اصل معانی کو نہایت احترام اور نہایت ذمہ داری کے ساتھ نئی نسل تک پہنچایا گیا۔ نوجوان بڑی محبت، عقیدت اور فکری دلچسپی کے ساتھ نہ صرف ہال کے اندر موجود ہوتے بلکہ ہال کے باہر بھی اُن کی بڑی تعداد مسلسل جمع رہتی، سیشنز کو سنتی، کتب میلے میں کتابیں دیکھتی، فنِ خطاطی کی نمائش میں صوفیانہ جمال کو محسوس کرتی اور روحانی خوشبو سے اپنے اندر ایک نیا شعور پیدا کرتی دکھائی دی۔

صوفی فیسٹیول کی یہ 3 روزہ سرگرمیاں محض تقریبات کا سلسلہ نہیں تھیں بلکہ صوفی فکر کی تجدیدِ نو کا ایک بھرپور عمل تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیصلہ کیا گیا کہ اس فیسٹیول کو آئندہ برسوں میں بھی اسی شان و شوکت سے جاری رکھا جائے تاکہ صوفیانہ رنگ، جو پنجاب کی تہذیب کی جڑوں میں رچا بسا ہے، مزید مضبوط ہوسکے اور نئی نسل اس روایتِ حسن کو آگے بڑھا سکے۔

آج کے دور میں صوفیا کرام کے پیغامِ محبت و انسانیت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے، اور یہی مقصد لے کر لاہور آرٹس کونسل (الحمرا) کی پوری ٹیم نے رات دن محنت کی۔ پروگرامنگ، سوشل میڈیا، سیکیورٹی، صفائی، پروڈکشن، لائٹنگ، ٹیکنیکل اور انتظامی تمام شعبوں نے بھرپور لگن کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے اور ہر گوشہ اس امر کا گواہ رہا کہ اس ٹیم نے کسی بھی قسم کی کمی یا کوتاہی کی گنجائش باقی نہیں رہنے دی۔

خصوصاً سوشل میڈیا ٹیم نے جدید ترین ڈیجیٹل حکمتِ عملی اور بلاگنگ اسٹیٹریجی کے ذریعے صوفیہ کرام کی تعلیمات، کلام، شاعری، تصوف اور فلسفہ کو پوری دنیا تک پہنچایا، جسے اندرون و بیرونِ ملک سے حیرت انگیز حد تک مثبت ردِعمل ملا۔

یہی وہ اجتماعی کامیابی ہے جو نہ صرف حکومت پنجاب، محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب اور لاہور آرٹس کونسل کے لیے باعثِ فخر ہے، بلکہ نوجوان نسل کو وہ اعتماد بھی دے رہی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو صوفیانہ پیغام کو عالمی سطح تک لے جانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس فیسٹیول کی کامیابی کو نوجوانوں کے نام نہ کرنا یقیناً زیادتی ہو گی، کیونکہ اس روحانی کارواں میں انہوں نے جس جوش، محبت اور فکری وابستگی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صبح صادق

الحمرا صوفی فیسٹیول.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: محمد محبوب عالم چوہدری نے الحمرا ہال نمبر اطلاعات و ثقافت نوجوانوں کے میں نوجوان کیا گیا کے ساتھ پیش کی کے لیے

پڑھیں:

سپاہ، قلم، زر

ایک زمانہ تھا کہ کسی بچے سے پوچھو ’’ تم بڑ ے ہو کرکیا بنو گے؟‘‘ تو وہ فورا جواب دیتا تھا کہ ’’میں بڑے ہوکر ڈاکٹر بنوں گا‘‘ پوچھاجاتا کہ ’’ تم ڈاکٹرکیوں بنو گے؟‘‘ تو بچہ جواب دیتا کہ ’’ میں ڈاکٹر بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کروں گا۔‘‘

یہ وہ زمانہ تھا کہ جب ملک کے گنتی کے سرکاری تحویل میں میڈیکل کالج اور انجینئرنگ کالج یا یونیورسٹیز ہوا کرتی تھیں اور ان اداروں میں خالصتا میرٹ کی بنیاد پر داخلے ملا کرتے تھے۔

اب یہ شوق وجذبہ تقریبا ختم ہی ہوچکا ہے اور ہمارا پڑھا لکھا طبقہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے بیرون ملک روانہ ہوجاتا ہے۔ جن کی مالی حیثیت مستحکم ہوتی ہے وہ اپنے بچوں کو باہرکی اچھی یونیورسٹیوں سے تعلیم دلواتے ہیں۔

یہ سب کیوں ہے؟ ظاہر ہے ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی ناقدری کے علاوہ اور بھی بہت سی خامیاں ہیں۔ معاف کیجیے، یہاں کا سسٹم شریف آدمی کے مزاج کا ہرگز نہیں ہے۔

ہم یہ بھی سنا کرتے تھے کہ کسی بھی ملک کی مشینری ABC Power پر کھڑی ہوتی ہے۔ آرمی، بیوروکریسی (افسر شاہی) اور Capitalist سرمایہ دار یا صنعت کار۔ یہ تینوں اپنی اپنی جگہ طاقت رکھتے ہیں لیکن ان کے کردار اور اثرات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔

ان کا بنیادی طور پر باہمی تعلق ملک کے سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچے کو تشکیل دینا ہوتا ہے۔ فوج (آرمی) کسی بھی ملک کی جغرافیائی سرحدوں، قومی سلامتی اور دفاع کی ذمے دار ہوتی ہے۔

نظم و ضبط ((Disciplineکے لحاظ سے فوج سب سے زیادہ منظم اور مربوط ادارہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ قوت نافذہ کے لحاظ سے فوج کے پاس طاقت کا براہ راست استعمال کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ملک کی سلامتی کے لیے فیصلہ کن کردار بھی ادا کرتی ہے۔

ہنگامی حالات کی صورت میں بعض ممالک میں تو فوج سیاسی عمل میں براہ راست یا بالواسطہ مداخلت کی قوت بھی رکھتی ہے۔ افواج پاکستان اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی وجہ سے دنیا کی بہترین عسکری قوتوں میں سے ایک ہے جس کو نہ صرف دشمن تسلیم کرتا ہے بلکہ پوری دنیا سراہتی ہے۔

پاکستان جغرافیائی لحاظ سے جنوبی ایشیا کے اس خطے پر واقع ہے جس کے اطراف میں ایران، افغانستان، چین اور بھارت واقع ہے۔ بھارت ہمارا ازلی دشمن رہا ہے اور اس سے کئی معرکے بھی ہوچکے ہیں، ادھر افغانستان کی صورتحال بھی کچھ تسلی بخش نہیں جو پاکستان کی سر بلندی اور سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

موجودہ پیچیدہ حالات میں بلاشبہ افواج پاکستان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ وزیرستان میں ہماری سپاہ کے نوجوان دہشت گردوں سے مقابلے کے دوران جام شہادت نوش کرچکے ہیں جب کہ اس کے برخلاف پرکشش ماہانہ تنخواہ اورقابل رشک دیگر مراعات پر منحصر بیوروکریسی ( افسر شاہی) وہ طبقہ ہے جو انتظامی معاملات کو چلاتا ہے۔

پالیسی سازی اور قوانین تیارکرنے اور ان کو نافذ العمل کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ افسر شاہی کے پاس عوام کے کاموں کو منظور یا نامنظورکرنے کی طاقت ہوتی ہے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر بیوروکریسی بر قرار رہتی ہے، اس لیے اسے ریاست کا مستقل پائیدار ستون کہا جاتا ہے۔

تعلیم یافتہ افسران معاشی، انتظامی اور سماجی فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ بیوروکریسی کی طاقت کا منبع علم، تجربہ، قانون اور انتظامی اختیار ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری بیوروکریسی نہایت غیر تسلی بخش اور غیر معیاری ہے۔

بیوروکریسی کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ صرف میرٹ کی بنیاد پرچلتا ہے۔ ہر سال ملک میں مقابلے کا امتحان ہوتا ہے، جس میں بمشکل سو یا دو سو کے لگ بھگ امیدواران پاس کر پاتے ہیں۔ تحریری امتحان میں کامیاب ہونیوالے امیدواروں کے انٹرویو ہوتے ہیں اوران میں سے کچھ تو انٹرویو میں ناکام ہوجاتے ہیں۔

تمام پروسیس سے گزرنے کے بعد ان کو ایڈمنسٹریٹو اکیڈمی والٹن لاہور تربیت کے لیے جوائن کرایا جاتا ہے، جہاں ان کی برین واشنگ کر کے ان کو حکمرانی کی تربیت دینے کا آغاز ہوجاتا ہے۔ ان میں سے کچھ سول انتظامیہ کا حصہ بنتے ہیں اور اسی طرح بالترتیب پولیس،کسٹم، ڈپلومیٹس اورکچھ ٹیکسیشن کا حصہ بنتے ہیں۔

ان کامیاب ہونیوالے امیدواروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ملک کے بہترین دماغ ہیں۔ اس امتحان کی خاص بات یہ ہے کہ خالصتا بلاتفریق رنگ و نسل یہ امیدوارکی ذہانت و قابلیت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب عوام کی خدمت کے لیے آتے ہیں۔

لیکن قابل افسوس امر یہ ہے کہ ان کو حکمرانی کی تربیت کچھ اس طرح سے دی جاتی ہے کہ جب سول انتظامیہ میں آتے ہیں تو سب سے پہلے کالے چشمے اور واسکٹ پہن کر فورس کے ہمراہ بازاروں میں نکل جا تے ہیں اور ناجائز تجاوزات کے خلاف مہم شروع کردیتے ہیں۔

فٹ پاتھوں پر لگی غیر قانونی چھابڑیاں الٹ دیتے ہیں اور ریڑیاں اٹھوا لیتے ہیں، جو پولیس میں جاتے ہیں وہ چمکدار اور اجلی حکومتی وردی پہن کر نشیوں اور بھکاریوں سے شہرکو خالی کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔

قوم کی خدمت کے لیے ان کے ساتھ ساتھ کیمرہ بھی ہوتا ہے جو سوشل میڈیا کے لیے ان کی خدمات کوگاہے بگاہے ریکارڈ کرتا رہتا ہے۔

یاد رہے کہ ہمارے یہ نوجوان کسی دیسی کالج سے پڑھ کر آئے ہوں یا باہر سے ڈگری لے کر آئے ہوں، سروس میں آتے ہی ان کا چلبل پانڈے نکل کر آجاتا ہے جو ایک ہاتھ سے کالا چشمہ اتارتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے قوم کو درست راستے پرچلنے کی راہ دکھاتا ہے۔

کچھ زیادہ درد مند نوجوان افسران عوام کی بھلائی کے لیے کھلی کچریاں بھی لگاتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ گریڈ 17کے افسرنہ ہوں بلکہ محنتی مغل شہزادے ہوں۔ انھیں اپنے دفاتر کے کام کے بارے میں قطعا معلومات اور نہ ہی کام کا تجربہ ہوتا ہے۔

وہ تین الفاظ What - Why and As Proposed فائلوں کی نوٹ شیٹس پر لکھنا جانتے ہیں۔گزشتہ دہائیوں سے CSS (Central Superior Services) کا رجحان کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے۔

سوشل میڈیا اور دوسرے ماس میڈیا ذرایع پر اس کا خوب چرچا کیا جا رہا ہے۔ ملک سے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل امیدوار اس امتحان کے ذریعے پولیس،کسٹمز، فارن سروس، ٹیکسیشن، ڈسٹرکٹ منیجمنٹ گروپ کے اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اورکمشنر اور دوسرے دیگر شعبوں کے اعلیٰ عہدے جیسی اعلیٰ بااختیار ذمے دار عہدے حاصل کرسکتے ہیں۔

سول انتظامیہ کے یہ عہدے عوام کی خدمت کے متقاضی ہیں اور ہر سیاسی حکومت کے لیے رہنما ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ آخر سی ایس ایس کا کریزکیوں ہے اور مزید کیوں بڑھتا جا رہا ہے؟

قارئین! کبھی آپ نے اس امر پر غورکیا۔ حد تو یہ ہوگئی ہے کہ پروفیشنل ڈاکٹرز، انجینئرز اور دوسرے پروفیشنلز اپنے مخصوص اور حساس انسانی خدمات کے شعبے ترک کر کے اس امتحان کے ذریعے ان عہدوں کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں۔ آخرکیوں؟

اس کی بڑی وجہ دن رات میں دولت مند بننے کی دلی آرزو، مادیت پرستی، ہوس زر اور مال و دولت، طاقت کا حصول۔ یہی وہ بنیادی عناصر ہیں جو کرپشن کو جنم دیتے ہیں۔

پولیس،کسٹمز اور ڈسٹرکٹ منیجمنٹ اس میں پیش پیش ہیں۔کہاجاتا تھا کہ ’’ کھیلوگے،کودو گے، ہوگے خراب، پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب‘‘ شاید یہ محاورہ اس امتحان کے لیے ہی کہا گیا ہوگا۔ ملک کے اندرونی ڈھانچے کی تکمیل و تشکیل اسی بیوروکریسی کی متقاضی ہے۔

جتنی ایمانداری، دیانتداری اور محب وطنیت کے ساتھ بیوروکریسی کا عمل ہوگا، اتنا ہی ملک میں انتظامی ڈھانچہ مستحکم ہوگا۔ ملک کے خزانے کا کثیر سرمایہ ان افسران کی تربیت پر خرچ ہوجاتا ہے جو عوام کے خون پسینے کی کمائی سے جمع ہوتا ہے، وہ اس طرح سے برباد ہوجاتا ہے لیکن ان حقائق کے باوجود اس امرسے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ معاشی مستحکم کے بغیر یہ دونوں قوتیں بے معنی اور بے اثر رہ جاتی ہیں۔

ماضی گواہ ہے کہ کسی بھی ملک کے معاشی وسائل پرکنٹرول سرمایہ دار طبقہ کرتا ہے۔ جس کے تحت بڑے بڑے کاروبار، صنعتوں اور مالی معاملات کی نگرانی، ملک کے شہریوں کو روزگارکی فراہمی وغیرہ۔ بعض ممالک میں سرمایہ دار یا صنعت کار حکومتوں کی تیارکردہ پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہوجاتے ہیں۔

صنعتی پیداوار، تجارت اور برآمدات و درآمدات کے ذریعے ملک کی معاشی ترقی اور خوشحالی میں بائیس خاندانوں کا نام سرفہرست ہے۔ سرمایہ دارانہ طاقت کا اصل منبع سرمایہ، منڈی اور مالیاتی اثر و رسوخ پر ہے۔

پاکستان کے قیام کی تاریخ گواہ ہے کہ تینوں ستونوں میں پاک افواج اور صنعت کارکی کارکر دگی مجمو عی طور پرقابل تعریف رہی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک ہماری افواج کے ہر سپاہی کو وہ قوت عطا کرے اور شہدا کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ (آمین)

متعلقہ مضامین

  • قاہرہ: پاکستانی قوالوں کی شاندار پرفارمنس نے سامعین کو مسحور کردیا
  • ہانگ کانگ کے شعلے
  • سپاہ، قلم، زر
  • کرکٹ سے محبت کرنے والے ملک کا ’اکلوتا ٹینس اسٹار‘ اعصام الحق کا پروفیشنل سفر ختم
  • ’تیرےعشق میں‘: دھنش اور کریتی کی جوڑی بھی بے ترتیب لو اسٹوری نہ سنبھال سکی
  • سابقہ شوہر مجھ سے کم کماتے تھے، محبت کی خاطر شادی کی، مریحہ صفدر
  • کیارا ایڈوانی اور سدھارتھ ملہوترا نے اپنی بیٹی کے نام کا اعلان کردیا
  • تربت گرلز کالج میں ایک روزہ اسپورٹس فیسٹیول کا انعقاد
  • گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت میں ایک روزہ اسپورٹس فیسٹیول کا انعقاد