Express News:
2025-12-10@18:15:50 GMT

پاک فوج کے زیر انتظام میرانشاہ میں اہم جرگے کا انعقاد

اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

پاک فوج کے زیر انتظام خیبر پختونخوا کے علاقے میرانشاہ میں اہم جرگے کا انعقاد کیا گیا۔

جرگے میں شمالی وزیرستان کے مشران اور عمائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) میرانشاہ نے جرگے کے شرکا کو خوش آمدید کیا۔

جی او سی میرانشاہ نے شمالی وزیرستان میں امن و خوشحالی کے لیے قبائلی عمائدین اور مشران کے کلیدی کردار کو سراہا۔ اس موقع پر علاقے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ شرکا نے علاقے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور درپیش انتظامی مسائل پر اپنی تجاویز پیش کیں۔

قبائلی عمائدین نے فتنۃ الخوارج کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔ جرگے کے اختتام پر امن، ترقی اور بہتر انتظامی حکمتِ عملی کے لیے مشترکہ تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

شمالی وزیرستان کے قبائلی عمائدین اور مشران علاقے میں پائیدار امن کے لیے سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑےہیں۔

.

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

افغانستان کے علاقے پنجشیر میں چیک پوسٹوں پر حملہ، 8 طالبان ہلاک

تاحال کسی شدت پسند گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور طالبان حکام نے بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ طالبان حکومت کے خلاف ملک کے دیگر حصوں میں ایسی کارروائیوں میں داعش خراسان جبکہ پنجشیر میں مزاحمتی گروپ متحرک رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ افغانستان کے صوبے پنجشیر میں طالبان حکومت کے خلاف مزاحمت کا زور اب بھی جاری ہے، جہاں دو سکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پنجشیر کی دو سکیورٹی چیک پوسٹوں پر ہونے والے دھماکوں میں کم از کم آٹھ طالبان ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ حملہ عبداللہ خیل وادی کے منجنستو علاقے میں تقریباً 7:40 بجے ہوئے، جہاں طالبان کا ایک مرکزی آؤٹ پوسٹ واقع ہے۔ دھماکے ایک ایسے کمپاؤنڈ میں ہوئے، جو مولوی ملک کے نام سے جانے جانے والے شخص کی ملکیت میں تھا۔ دھماکوں کے بعد طالبان نے وادی کے کچھ حصوں کو سیل کر دیا، گزرنے والے راستے بند کر دیئے اور مقامی لوگوں سے پوچھ گچھ شروع کر دی۔

تاحال کسی شدت پسند گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور طالبان حکام نے بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ طالبان حکومت کے خلاف ملک کے دیگر حصوں میں ایسی کارروائیوں میں داعش خراسان جبکہ پنجشیر میں مزاحمتی گروپ متحرک رہے ہیں۔ یاد رہے کہ فغانستان میں پنجشیر وادی واحد علاقہ ہے، جہاں طالبان کے خلاف مزاحمت اب بھی جاری ہے۔ 70 اور اسّی کی دہائیوں کے دوران سویت یونین اتحاد کے خلاف محمود درہ وادی مزاحمت نے سر اُٹھایا تھا اور غیر ملکی فوج کو بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ "شیر پنجشیر" کے نام سے معروف احمد شاہ مسعود نے طالبان کی پہلی حکومت کے خلاف بھی مزاحمت کی تھی اور وادی کو اپنی مضبوط ٹھکانہ بنایا تھا۔

احمد شاہ مسعود صحافیوں کے بھیس میں آنے والے خودکش بمبار کے حملے میں مارے گئے تھے، لیکن اس کے باوجود طالبان اپنے پہلے دور حکومت میں پنجشیر پر قبضہ نہیں کرسکے تھے۔ بعد ازاں طالبان کی پہلی حکومت کے خاتمے اور ملک میں حامد کرزئی و اشرف غنی کی حکومتوں میں بھی پنجشیر نے ان حکومتوں کی مدد کرتے ہوئے بھی اپنی علیحدہ حیثیت کو برقرار رکھا۔ اگست 2021ء میں طالبان کے دوبارہ افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پنجشیر میں تاحال مزاحمت جاری ہے۔ گذشتہ ایک برس میں پنجشیر میں بار بار دھماکے اور حملے دیکھنے میں آئے ہیں، جو طالبان کے مضبوط قبضے کے باوجود مزاحمت کی علامت ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مراکش میں خوفناک حادثہ، دو رہائشی عمارتیں گرگئیں، 19 افراد جاں بحق
  • موسیٰ خیل میں جرگے کا ظالمانہ فیصلہ: 8 افراد دہکتے انگاروں پر چلنے پر مجبور، انتظامیہ کا مقدمہ درج
  • بلوچستان: جرگے نے چوری کے شبے میں 8 افراد کو دہکتے انگاروں پر چلا دیا
  • چوری کا الزام: بلوچستان میں جرگے نے 8 افراد کو دہکتے انگاروں پر چلادیا، ویڈیو وائرل
  • کراچی، گھر میں بنے گودام میں آگے لگنے سے زخمی ہونے والا شخص دوران علاج دم توڑ گیا
  • افغانستان کے علاقے پنجشیر میں چیک پوسٹوں پر حملہ، 8 طالبان ہلاک
  • بلوچستان میں جرگے نے 8 افراد کو انگاروں پر چلایا
  • پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے زیر انتظام بارہ کوڈا مشقوں کا آج سے آغاز
  • پختون قبائلی ہوں، تربیت ایسی نہیں گالیاں دوں،سہیل آفریدی
  • کراچی، لانڈھی بھینس کالونی میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق