پاکستان کے اندرونی حالات ٹھیک نہیں، معیشت بیٹھ گئی ہے: اسد عمر
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
---فائل فوٹو
سینئر سیاستدان اسد عمر نے کہا ہے کہ غریب موٹر سائیکل والے پر چالان کیے جا رہے ہیں طاقتور کو آپ کچھ کہہ نہیں سکتے ہیں، پاکستان کے اندرونی حالات ٹھیک نہیں، معیشت بیٹھ گئی ہے۔
اسد عمر نے انسدادِ دہشت گردی لاہور کی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ اگر ٹریفک قوانین کو نافذ کرنے جا رہے ہیں یہ بہت اچھی چیز ہے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے 8 کمیٹیاں بنائی گئیں جو معیشت کو بہتر کرنے کا طریقہ بتائیں گی، آپ نے ڈیڑھ سال سے کیا کیا ہے، اس حکومت نے ساڑھے 3 سال برباد کر دیے ہیں۔
اسد عمر نے کہا کہ تمام پارٹیاں مل کر بیٹھیں گی تو مسائل کا حل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک آپ سیاسی بحران کو ختم نہیں کریں گے، حالات بہتر نہیں ہوں گے، سیاسی بحران ختم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، سب کو مل کر بیٹھ کر سیاسی بحران حل کرنے کی ضرورت ہے۔
اسد عمر کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت کو ہم نے تگڑا جواب دیا ہے، پاکستان جیتا ہے، ساری دنیا مان گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔