سینیٹ سے نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام کا بل منظور
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
سینیٹ نے نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی بل 2025 منظور کرلیا جس کے تحت اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
سینیٹ اجلاس بریزائنڈنگ افسر شہادت اعوان کی زیر صدارت ہوا۔ بل وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں پیش کیا۔
اصولی پالیسی کی نگرانی و عمل درآمد سے متعلق سالانہ چار سالہ رپورٹس سینیٹ میں پیش کی گئیں، رپورٹس بھی ایوان میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڈ نے پیش کیں۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ بل 14 نومبر کو رانا تنویر حسین نے ایوان میں پیش کیا تھا، بل پر آخری لمحات میں اعتراضات اٹھائے گئے تھے، جن ترامیم پر اعتراض تھا وہ سب واپس لے لی گئی ہیں۔
وزیر قانون نے کہا کہ ادارے کے کسی ملازم کو نوکری سے فارغ نہیں کیا جائے گا، متاثر ہونے والے ملازمین کو سرپلس پول بھجوا دیا جائے گا۔
سینیٹر اسد قاسم نے ایف بی آر کی جانب سے فائلرز کو بینک بیلنس اور لین دین رقم سے متعلق ٹیکسٹ پیغامات بھجوانے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس جمع کروایا۔
سینیٹر اسد قاسم نے سوال اٹھایا کہ ایف بی آر ہمارے مالی لین دین کی اطلاعات کس طرح ایسے نشر کر رہا ہے؟ یہاں تو لوگ اپنی بیویوں سے بھی بینک بیلنس چھپاتے ہیں۔ میرا بطور ٹیکس گزار یہ حق ہے کہ میں بینک بیلنس سے متعلق معلومات اپنے فون کے ذریعے نہیں جاننا چاہتا، یہ معاملات راز داری کے ہوتے ہیں جو بطور ٹیکس گزار میرا حق بنتا یے۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ پیغامات صرف متعلقہ ٹیکس گزار کو ہی بھجوائے جاتے ہیں، ایف بی آر کو قوانین کے تحت یہ اختیار حاصل ہے۔
صدر نشین نے معاملہ خزانے و محاصل کی قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیش کی
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :