پشاور: عدالت کا ڈی جی ایکسائز سمیت 8 اہلکاروں کی تنخواہ بند کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک: پشاور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عدالتی احکامات کی تعمیل نہ کرنے پر ڈی جی ایکسائز سمیت 8 اہلکاروں کی تتنخواہ بند کے لیے اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کو مراسلہ لکھ دیا۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت میں سات دسمبر 2024 سے منشیات کا ایک مقدمہ زیر سماعت ہے جس میں تھانہ ایکسائز کے سات اہلکار بطور استغاثہ گواہان نامزد ہیں۔
مراسلے کے مطابق گواہان کو پیش ہونے کے لیے کئی بار نوٹسز جاری کیے گئے، ڈی جی ایکسائز کو بھی نوٹس جاری کیا لیکن کوئی عمل نہیں ہوا۔
لاہور میں گل داؤدی نمائش کا آغاز
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ گواہان کے پیش نہ ہونے سے مقدمہ مزید طویل ہورہا ہے لہٰذا اکاؤنٹنٹ جنرل آفس ڈی جی ایکسائز سمیت دیگر اہلکاروں کی تتنخواہ بند کریں۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ڈی جی ایکسائز
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔