اے این پی کی 28 ویں ترمیم کی مشروط حمایت، خیبرپختونخوا کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
پشاور:
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے 28 ویں ترمیم کی مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ 27 ویں ترمیم کے دوران کے وعدوں کی پاسداری کی جائے اور خیبرپختونخوا کی تاریخی حیثیت بحال کرکے صوبے کا نام پختونخوا رکھا جائے۔
اے این پی کے مرکزی ترجمان انجینئر احسان اللہ خان نے بیان میں کہا کہ پاکستان کا آئین کسی فرد واحد، ذاتی اقتدار یا ادارہ جاتی بالادستی کے حصول کا ذریعہ نہیں بن سکتا،آئینی ترامیم کا مقصد صرف عوامی مفاد، صوبائی حقوق کا تحفظ، وفاقی انصاف اور جمہوری استحکام ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اے این پی 28 ویں آئینی ترمیم کی حمایت صرف اس صورت میں کرے گی جب 27ویں آئینی ترمیم کے دوران کیے گئے وعدوں کی مکمل پاسداری یقینی بنایا جائے، 18 ویں آئینی ترمیم، این ایف سی ایوارڈ، صوبائی خودمختاری اور صوبائی حقوق سے متعلق تمام آئینی تحفظات بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھے جائیں۔
ترجمان اے این پی نے کہا کہ اے این پی صوبائی حقوق پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کرے گی، 28 ویں آئینی ترمیم میں ہائیڈل پاور پیدا کرنے والے صوبوں کے لیے بجلی پر آئینی ریلیف دیا جائے، ہائیڈل پاور پیدا کرنے والے صوبوں میں بجلی کے استعمال پر کوئی وفاقی ٹیکس، سرچارج یا اضافی لاگت عائد نہ کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے صوبوں میں گھریلو صارفین کے لیے 500 یونٹس تک بجلی کی قیمت 10 روپے فی یونٹ مقرر کی جائے۔
انجینئر احسان اللہ خان نے کہا کہ 28 ویں آئینی ترمیم میں تمباکو کاشت کاروں کے تحفظ اور صوبائی محصول کے حق کو یقینی بنایا جائے، تمباکو کاشت کرنے والے کسانوں پر عائد تمام ٹیکس فوری طور پر ختم کیے جائیں، خام تمباکو کی خریداری پر صنعتوں سے وصول ہونے والا مکمل ٹیکس اس صوبے کو دیا جائے جہاں یہ تمباکو پیدا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 28 ویں آئینی ترمیم میں مقامی حکومتوں کے مستقل قیام کو آئینی ضمانت دی جائے، آرٹیکل 140A کے مطابق ملک بھر میں ہر چار سال بعد باقاعدگی سے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے اور یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی انتظامی اتھارٹی کو ان اداروں کو معطل، تحلیل یا ان کی جگہ لینے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔
ترجمان اے این پی نے مطالبہ کیا کہ 28 ویں آئینی ترمیم میں پختونخوا کی تاریخی شناخت بحال کی جائے اور اے این پی صوبے کے نام کو ’پختونخوا‘ تسلیم کرنے کے مطالبے کو دہراتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویں آئینی ترمیم میں اے این پی نے کہا کہ کی جائے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔