Nawaiwaqt:
2026-07-24@05:37:42 GMT

وفاقی آئینی عدالت میں 27ویں ترمیم کو چیلنج کر دیا گیا

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

وفاقی آئینی عدالت میں 27ویں ترمیم کو چیلنج کر دیا گیا

وفاقی آئینی عدالت میں 27ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کر دیا گیا ہے۔ وکیل محمد شعیب نے بطور درخواست گزار مؤقف اختیار کیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم بدنیتی پر مبنی ہے اور اسے کالعدم قرار دیا جائے۔وفاقی آئینی عدالت میں جمع کروائی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ ترمیم مفادِ عامہ میں نہیں کی گئی اور اس کا ملک میں زیرِ التوا عام سائلین کے 25 لاکھ مقدمات سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ متوازی نظامِ انصاف عوام کے مفاد میں نہیں.

درخواست میں وفاق، اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کو 13 نومبر کو پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے بعد قانون کا درجہ دیا گیا، جس پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی، اس قانون نے عدلیہ اور فوج میں بڑی ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں متعارف کرائیں، جب کہ قانونی حلقوں، سابق اور موجودہ ججوں نے اسے عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔چند روز قبل، پریس کانفرنس کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام نے 27 ویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں ہمارے ارکان نے اس کی مخالفت کی، مرکزی شوریٰ نے ارکان کے فیصلے اور 27 ویں ترمیم کی مخالفت کی توثیق کی۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ترمیم کو

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن