ماہیکا شرما نے ہارڈک پانڈیا سے منگنی اور حمل کی خبروں کا حقیقت بتا دی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
بھارتی آل راؤنڈر ہارڈک پانڈیا اور نوجوان سپر ماڈل ماہیکا شرما کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی منگنی اور حمل کی افواہوں پر آخرکار ماہیکا خود میدان میں آگئیں اور انہوں نے تمام خبریں بے بنیاد قرار دے دیں۔
گزشتہ دنوں دونوں کی منگل وار پوجا میں مشترکہ شرکت کی تصاویر وائرل ہوئیں تو مداحوں نے فوراً اسے “نئی شروعات” سے جوڑ کر قیاس آرائیاں شروع کر دیں۔ معاملہ اُس وقت مزید گرم ہوگیا جب ماہیکا کی انگلی میں ایک بڑی چمکتی ہوئی انگوٹھی نظر آئی، اور سوشل میڈیا نے اسے فوراً “منگنی کی انگوٹھی” قرار دے دیا۔ کچھ صارفین نے تو یہاں تک دعویٰ کر دیا کہ ماہیکا حاملہ ہیں۔
ماہیکا نے افواہوں پر خاموشی ختم کرتے ہوئے انسٹاگرام اسٹوری میں طنزیہ انداز میں لکھا:انٹرنیٹ دیکھ کر مجھے خود ہی حیرت ہوتی ہے کہ شاید میں منگنی کر چکی ہوں، حالانکہ میں تو بس اچھی جیولری روزانہ پہنتی ہوں!
حمل کی افواہوں پر بھی انہوں نے humorous انداز میں کہا:اگر میں ایسی ڈریس پہن کر آؤں جو ان افواہوں کا مقابلہ کر سکے تو لوگ کیا کریں گے؟
ہارڈک اور ماہیکا پچھلے کچھ مہینوں سے سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے لیے محبت بھرے تبصرے کرتے رہے ہیں، جس سے ان کے تعلق کی خبریں پھیلتی رہیں۔
یاد رہے، ہارڈک پانڈیا کی پہلے شادی ناتاشا اسٹانکووچ سے ہوئی تھی اور دونوں کا ایک بیٹا آگستیا ہے۔ 2020 میں شادی اور 2023 میں دوبارہ رسومات ادا کرنے کے بعد جولائی 2024 میں انہوں نے باہمی رضامندی سے علیحدگی اختیار کی اور اعلان کیا کہ وہ بیٹے کی کو-پیرنٹنگ مل کر کریں گے۔
فی الحال ماہیکا اور ہارڈک نے منگنی اور حمل سے متعلق تمام افواہوں کی سختی سے تردید کر دی ہے، جبکہ دونوں کے رشتے کی نوعیت کے بارے میں مداح اب بھی قیاس آرائیاں کرتے نظر آتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔