راولپنڈی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان سسٹم فعال
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
راولپنڈی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف جدید اور خودکار کارروائی کا آغاز ہوگیا ہے۔ سیف سٹی منصوبے کے مکمل فعال ہونے کے بعد شہر میں آج سے ای چالان سسٹم باضابطہ طور پر شروع کر دیا گیا۔
چیف ٹریفک آفیسر راولپنڈی فرحان اسلم کے مطابق پورے شہر میں 359 مقامات پر 2 ہزار سے زائد کیمرے نصب کیے گئے ہیں جو مسلسل ٹریفک کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کیمروں کے ذریعے موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے گی، جبکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر خودکار ای چالان جاری ہوگا۔
سی ٹی او نے بتایا کہ ہیلمٹ نہ پہننے، سیٹ بیلٹ کی پابندی نہ کرنے، سگنل توڑنے سمیت دیگر خلاف ورزیوں پر کیمرے فوری طور پر ریکارڈ تیار کریں گے اور ای چالان تصویر اور کوڈ کے ساتھ گاڑی کے مالک کے گھر کے پتے پر بھیجا جائے گا۔
فرحان اسلم نے کہا کہ سیف سٹی کیمروں کے فعال ہونے سے ٹریفک مینجمنٹ میں نمایاں بہتری آئے گی، اور ٹریفک وارڈنز اب چالان کرنے کے بجائے ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے پر زیادہ توجہ دے سکیں گے۔
راولپنڈی میں ای چالان سسٹم کا آغاز شہریوں کے لیے جدید اور شفاف ٹریفک نظام کی طرف اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔