Islam Times:
2026-07-24@04:31:01 GMT

کشمیر ہائوس اسلام آباد میں کشمیر یوتھ کانفرنس کا انعقاد

اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT

کشمیر ہائوس اسلام آباد میں کشمیر یوتھ کانفرنس کا انعقاد

ذرائع کے مطابق مشاہد حسین سید نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار مغربی رائے عامہ فلسطین کے بارے میں بدلی ہے جس کا اثر مقبوضہ کشمیر پر بھی پڑے گا اور بھارت کی بالادستی کے خلاف چین پاکستان کے شانہ بشانہ موجود ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کشمیر ہائوس اسلام آباد میں منعقدہ کشمیر یوتھ کانفرنس سے سینیٹر مشاہد حسین سید، کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینئر غلام محمد صفی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ ذرائع کے مطابق مشاہد حسین سید نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی ہے وہی پالیسی ہے جو قائداعظم محمد علی جناح کی تھی۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، اس پالیسی کے مطابق جموں و کشمیر پاکستان کی شان ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال میں کشمیر کے حوالے سے تین مثبت چیزیں سامنے آئی ہیں پاکستان کو نیٹ سکیورٹی کے حوالے سے ایک نیا مقام ملا ہے، پہلی بار مغربی رائے عامہ فلسطین کے بارے میں بدلی ہے جس کا اثر مقبوضہ کشمیر پر بھی پڑے گا اور بھارت کی بالادستی کے خلاف چین پاکستان کے شانہ بشانہ موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے صدر ہیں جون جنگجو نہیں ہیں بلکہ وہ جنگیں ختم کرانے کی بات کرتے ہیں۔ مشاہد حسین سید نے واضح کیا کہ کشمیر پاکستان کی پہلی ترجیح ہے اس کو سیاست سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ عوامی رائے مسئلہ کشمیر کے حوالے بہت اہم ہے انشاءاللہ کشمیر بنے گا پاکستان۔

سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، غلام محمد صفی، الطاف حسین وانی، شیخ عبدالمتین اور دیگر حریت رہنمائوں سمیت مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ کشمیری مزاحمتی تحریک کی سب سے توانا آواز ہیں۔ وہ زمانہ طالبعلمی سے ہی تحریک آزادی سے وابستہ ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بابا حریت سید علی گیلانی نے مسرت عالم بٹ کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ مسرت عالم بٹ کے کردار نے نوجوانوں کو منظم کیا، ان کے فولادی ارادوں کے سامنے بھارت کو جھکنا پڑا۔ مسرت عالم بٹ گزشتہ دس سال سے زائد عرصے سے نئی دلی کی تہاڑ جیل میں مسلسل قید ہیں۔ مقررین نے مسرت عالم بٹ سمیت غیر قانونی طور پر نظربند حریت رہنمائوں محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی اور دیگر کو ثابت قدمی پر شاندار خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال مئی میں پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی شاندار فتح سے کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ بندی کرانے کا اعلان کیا اور پاکستان نے سفارتی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے امریکہ کے ثالثی کے کردار پر اس کا شکریہ ادا کیا۔ تاہم بھارت مسلسل اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور جنگ بندی میں امریکہ کے کردار سے انکار کر رہا ہے۔کانفرنس کے دیگر شرکاء میں ڈاکٹر اویس بن وصی، ایمبیسڈر عبدالباسط اور دیگر بھی شامل تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مشاہد حسین سید مسرت عالم بٹ انہوں نے کہا پاکستان کی نے کہا کہ اور دیگر

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا