پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اندرون سندھ کے واحد نیاز سٹیڈیم میں پی ایس ایل سمیت انٹرنیشنل میچز کروانے کا عندیہ دے دیا۔پی سی بی کے ڈائریکٹر ڈومیسٹک خرم نیازی نے نیاز سٹیڈیم کا دورہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیاز سٹیڈیم کی حالت پہلے سے بہتر ہے، لائٹس کی بھی تنصیب ہوچکی ہے۔ڈائریکٹر ڈومیسٹک پی سی بی نے کہا ہے کہ میئر حیدرآباد نیاز سٹیڈیم کو پی سی بی کے حوالے کرنے کا معاہدہ کریں تو سٹیڈیم پر بین الاقوامی معیار کے مطابق کام شروع کردیا جائے گا۔میئر حیدرآباد کاشف شورو نے پی سی بی کو سٹیڈیم کے حوالے کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔شائقین کرکٹ کا کہنا تھا کہ پی سی بی نیاز سٹیڈیم کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کرکے کرکٹ کے دروازے کھول سکتی ہے، اس کے لیے محض سنجیدگی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔نیاز سٹیڈیم حیدرآباد کی اپنی ایک منفرد تاریخ ہے، نیاز سٹیڈیم میں پاکستانی ٹیم ناقابل شکست رہی ہے، جنوری 2008 میں پاکستانی ٹیم نے زمبابوے کو شکست دے کر اپنا ریکارڈ برقرار رکھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: نیاز سٹیڈیم پی سی بی

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی سی بی کا چاچا کرکٹ کیلیے یادگاری تحفہ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے