نیتن یاہو نے کرپشن مقدمات پر صدر سے معافی کی اپیل کی، فیصلہ ریاست کے مفاد میں کرنے کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کرپشن مقدمات میں اپنے خلاف کیسز کے خاتمے اور معافی کی اپیل اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزیوگ سے کی ہے تاکہ ملکی مفاد میں یکسوئی کے ساتھ کام جاری رکھ سکیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے حماس اور حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیوں کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کی وجہ سے ملکی مفاد کے امور میں تاخیر ہوتی ہے اور وقت ضائع ہوتا ہے، انہوں نے اپیل میں کہا کہ ملکی حالات اور خطرات کے پیش نظر انہیں بلا رکاوٹ کام کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر اسحاق ہرزیوگ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ نیتن یاہو کی درخواست کا فیصلہ صرف ریاست اور اسرائیلی معاشرے کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں گے اور اس معاملے پر جارحانہ بیانات ان کے فیصلے کو متاثر نہیں کریں گے، صدر نے یقین دہانی کرائی کہ درخواست کو بہت مناسب اور محتاط انداز میں زیر غور لایا جائے گا۔
علاوہ ازیں صدر نے عوام سے ویب سائٹ کے ذریعے رائے دینے کی دعوت دی ہے تاکہ عزت اور احترام کے ساتھ مباحثے اور اصلاحی تنقید کو خوش آمدید کہا جا سکے، یہ معاملہ ملک میں شدید بحث و تنقید کا باعث بھی بن رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیتن یاہو
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز