data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251201-08-24
مقبوضہ بیت المقدس(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے صدر سے درخواست کی ہے کہ انہیں برسوں سے چلنے والے کرپشن کے 4 مقدمات میں معافی دے دیں۔برطانوی خبرایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے صدر سے کرپشن کیس میں معافی کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ کیس کی فوجداری ٹرائل کی وجہ سے ان کی انتظامی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے اور اس کیس میں معافی اسرائیل کے لیے اچھی ثابت ہوگی۔وکلا نے بتایا کہ وزیراعظم کے خلاف فوجداری سماعت کی وجہ سے ملک میں تقسیم ہوگئی ہے اور قومی اتفاق رائے کے لیے کیس کا خاتمہ ضروری ہے اور اس کی وجہ سے وزیراعظم کو انتظامی ذمے داری پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔حکمران جماعت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ میرے وکلا نے صدر کو کیس میں معافی کے لیے درخواست آج بھیج دی ہے اور مجھے توقع ہے کہ جو کوئی ملک کے لیے اچھا چاہتا ہے وہ اس اقدام کی حمایت کرے گا۔انہوں نے کہا کہ مجھے ہفتے میں 3 دفعہ پیش ہونا پڑتا ہے جو ایک ناممکن مطالبہ ہے اور یہ کسی اور شہری کے لیے نہیں ہے جبکہ انتخابات میں بارہا کامیابی کے ذریعے عوام کا اعتماد بھی حاصل کرچکا ہوں۔دوسری جانب اپوزیشن لیڈر یایر لیپڈ نے کہا کہ نیتن یاہو کو اس وقت تک معافی نہیں ملنی چاہیے جب تک وہ جرم کا اعتراف نہ کرے، پچھتاوا کا اظہار اور فوری طور پر سیاست سے ریٹائر نہیں ہوتے۔ادھر اسرائیلی صدر کے دفتر نے بیان میں کہا ہے کہ نیتن یاہو کی درخواست غیرمعمولی ہے اور اس کے سنجیدہ نتائج ہیں تاہم صدر متعلقہ حکام کے مشورے کے بعد اس درخواست پر ذمہ داری اور دیانت داری سے غور کریں گے۔خیال رہے کہ اسرائیل میں طویل ترین حکمرانی کرنے والے نیتن یاہو پر رشوت لینے، فراڈ اور غبن کے دیگر الزامات ہیں تاہم وہ اس کو مسترد کر رہے ہیں۔نیتن یاہو کے خلاف گزشتہ 5 برس سے زیرسماعت کرپشن کے ٹرائل میں وکلا اور نیتن یاہو نے اعتراف جرم نہیں کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں معافی صرف اس صورت میں دی جاتی ہے جب قانونی کارروائی مکمل ہوتی ہے اور ملزم کو سزا ہوجاتی ہے لیکن نتین یاہو کے وکلا کا مؤقف ہے کہ صدر عوامی دلچسپی کے معاملات پر مداخلت کرسکتے ہیں اور یہ معاملہ قومی اتحاد کو مضبوط کرنے اور انتشار سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیتن یاہو نے میں معافی کے لیے ہے اور

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل