اسرائیلی وزیراعظم نے کرپشن مقدمات میں معافی کی درخواست کردی
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے صدر اساق ہرزوگ سے اپنے خلاف درج کرپشن مقدمات میں معافی دینے کی درخواست کی ہے۔ نیتن یاہو نے موقف اختیار کیا کہ فوجداری کارروائیاں ان کی حکومت کرنے کی صلاحیت میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور معافی اسرائیل کے مفاد میں ہوگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ جو بھی ملک کے لیے اچھا چاہتا ہے وہ اس اقدام کی حمایت کرے گا، اور فوجداری سماعت کی وجہ سے ملک میں تقسیم پیدا ہو گئی ہے۔ نیتن یاہو نے مؤقف اپنایا کہ قومی اتفاق رائے کے لیے کیس کا خاتمہ ضروری ہے اور ان کی انتظامی صلاحیت متاثر ہونے کی وجہ سے معافی اسرائیل کے لیے فائدہ مند ہوگی۔
اس سے قبل امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیلی صدر سے نیتن یاہو کو معافی دینے کی درخواست کی تھی۔ دوسری جانب اپوزیشن لیڈر یایر لیپڈ نے کہا کہ بغیر جرم تسلیم کیے نیتن یاہو کو معافی نہیں ملنی چاہیے اور اگر معافی دی جاتی ہے تو انہیں سیاسی زندگی ترک کرنی ہوگی۔
اسرائیلی صدر کی رہائش گاہ کے باہر بڑی تعداد میں شہریوں نے احتجاج کیا، معافی نہ دینے اور نیتن یاہو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ عوامی سطح پر اس اقدام پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور سیاسی ماحول کافی کشیدہ ہو گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیتن یاہو
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔