WE News:
2026-07-24@09:32:39 GMT

نیتن یاہو کی صدارتی معافی کے خلاف تل ابیب میں شدید احتجاج

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

نیتن یاہو کی صدارتی معافی کے خلاف تل ابیب میں شدید احتجاج

اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں بڑی تعداد میں اسرائیلی شہریوں نے صدر اسحاق ہرزوگ کی رہائش گاہ کے باہر وزیرِاعظم نیتن یاہو کی جانب سے بدعنوانی کے مقدمات میں مکمل معافی کی درخواست کے خلاف احتجاج کیا۔

مظاہرین نے ’معافی = بنانا ری پبلک‘ کے نعرے لگائے اور صدر سےمذکورہ درخواست مسترد کرنے کی اپیل کی۔

یہ بھی پڑھیں:  اسرائیلی پارلیمنٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے دوران احتجاج، فلسطین کو تسلیم کرنے کے نعرے

76 سالہ نیتن یاہو نے بغیر اعترافِ جرم یا اظہارِ ندامت کے صدر کو معافی کی باضابطہ درخواست بھیجی ہے۔

ان کے اس اقدام نے اپوزیشن اور شہری حلقوں میں شدید ردِعمل پیدا کیا ہے۔

Protesters demonstrated outside the Tel Aviv home of Israeli President Isaac Herzog, opposing Benjamin Netanyahu's request for amnesty with chants of, "No to granting judicial amnesty to the one who destroyed Israel.

" pic.twitter.com/EQe40j8xm9

— IRNA News Agency (@IrnaEnglish) November 30, 2025

احتجاج میں شریک ایک شہری نے قیدیوں والا نارنجی لباس پہن کر نیتن یاہو کی ’علامتی گرفتاری‘ دکھائی جبکہ دیگر افراد نے کیلے سے بھرے ڈھیر کے ساتھ ’معافی‘ کا بڑا بورڈ اٹھا رکھا تھا۔

مظاہرین کا مؤقف تھا کہ نیتن یاہو ملک کو تقسیم کر رہے ہیں اور کسی ذمہ داری کو قبول کرنے کے بغیر مقدمہ ختم کرانا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی فنکاروں اور دانشوروں کا نیتن یاہو حکومت کے خلاف عالمی پابندیوں کا مطالبہ

اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ نے بھی احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے صدر ہرزوگ پر زور دیا کہ وہ اس ’غیر معمولی درخواست‘ کو رد کر دیں۔

نیتن یاہو گزشتہ 5 برس سے بدعنوانی کے 3 کیسز میں عدالت کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں رشوت، دھوکہ دہی اور اعتماد شکنی جیسے الزامات شامل ہیں۔

ایک کیس میں ان اور ان کی اہلیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے سیاسی فوائد کے بدلے ارب پتی افراد سے مہنگے تحائف وصول کیے۔

اگرچہ نیتن یاہو تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں، ان کے وکلا نے 111 صفحات پر مشتمل خط میں دعویٰ کیا ہے کہ عدالتی کارروائی بالآخر انہیں بری کر دے گی۔

مزید پڑھیں:اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا ’گریٹر اسرائیل‘ منصوبے کا ’تاریخی اور روحانی مشن‘ جاری رکھنے کا عزم

تاہم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ قومی مفاد اور سیاسی حالات اس مقدمے کے جاری رہنے کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ یہ سماجی تقسیم کو بڑھا رہا ہے۔

صدر کے دفتر نے معافی کی درخواست موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے سنگین مضمرات کی حامل غیر معمولی درخواست” قرار دیا ہے۔

ترجمان کے مطابق، وزیر اعظم نیتن یاہو کی اس درخواست پر تمام قانونی آرا حاصل کرنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

نیتن یاہو کو ملکی عدالتوں کے ساتھ ساتھ ہیگ کی بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹس کا بھی سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کا اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کیخلاف کرپشن مقدمہ ختم کرنے کا مطالبہ

جو انہیں غزہ کی جنگ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں مطلوب قرار دے چکی ہے۔

غزہ میں اس جنگ کے نتیجے میں 70 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اسرائیل میں عام طور پر معافی سزا کے بعد دی جاتی ہے، اس لیے نیتن یاہو کی قبل از سزا معافی کی درخواست نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اپوزیشن لیڈر یائر لاپید نے کہا کہ نیتن یاہو کو بغیر اعترافِ جرم اور سیاسی ریٹائرمنٹ کے معافی نہیں ملنی چاہیے۔

سابق جنرل یائر گولان نے انہیں فوراً مستعفی ہونے کا مشورہ دیا، جبکہ اینٹی کرپشن تنظیموں نے خبردار کیا کہ ایسا فیصلہ قانون کی بالادستی کے لیے سنگین دھچکا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ہرزوگ اعتماد شکنی بدعنوانی بنانا ری پبلک تل ابیب دھوکہ دہی رشوت علامتی گرفتاری معافی نارنجی لباس نیتن یاہو

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ہرزوگ بدعنوانی بنانا ری پبلک تل ابیب دھوکہ دہی رشوت علامتی گرفتاری معافی نیتن یاہو نیتن یاہو کی معافی کی کے خلاف

پڑھیں:

’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا

معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔

سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔

رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔

رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

        View this post on Instagram                      

 

نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل

سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔

اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل