WE News:
2026-07-24@02:03:24 GMT

نیتن یاہو کی صدارتی معافی کے خلاف تل ابیب میں شدید احتجاج

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

نیتن یاہو کی صدارتی معافی کے خلاف تل ابیب میں شدید احتجاج

اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں بڑی تعداد میں اسرائیلی شہریوں نے صدر اسحاق ہرزوگ کی رہائش گاہ کے باہر وزیرِاعظم نیتن یاہو کی جانب سے بدعنوانی کے مقدمات میں مکمل معافی کی درخواست کے خلاف احتجاج کیا۔

مظاہرین نے ’معافی = بنانا ری پبلک‘ کے نعرے لگائے اور صدر سےمذکورہ درخواست مسترد کرنے کی اپیل کی۔

یہ بھی پڑھیں:  اسرائیلی پارلیمنٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے دوران احتجاج، فلسطین کو تسلیم کرنے کے نعرے

76 سالہ نیتن یاہو نے بغیر اعترافِ جرم یا اظہارِ ندامت کے صدر کو معافی کی باضابطہ درخواست بھیجی ہے۔

ان کے اس اقدام نے اپوزیشن اور شہری حلقوں میں شدید ردِعمل پیدا کیا ہے۔

Protesters demonstrated outside the Tel Aviv home of Israeli President Isaac Herzog, opposing Benjamin Netanyahu's request for amnesty with chants of, "No to granting judicial amnesty to the one who destroyed Israel.

" pic.twitter.com/EQe40j8xm9

— IRNA News Agency (@IrnaEnglish) November 30, 2025

احتجاج میں شریک ایک شہری نے قیدیوں والا نارنجی لباس پہن کر نیتن یاہو کی ’علامتی گرفتاری‘ دکھائی جبکہ دیگر افراد نے کیلے سے بھرے ڈھیر کے ساتھ ’معافی‘ کا بڑا بورڈ اٹھا رکھا تھا۔

مظاہرین کا مؤقف تھا کہ نیتن یاہو ملک کو تقسیم کر رہے ہیں اور کسی ذمہ داری کو قبول کرنے کے بغیر مقدمہ ختم کرانا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی فنکاروں اور دانشوروں کا نیتن یاہو حکومت کے خلاف عالمی پابندیوں کا مطالبہ

اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ نے بھی احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے صدر ہرزوگ پر زور دیا کہ وہ اس ’غیر معمولی درخواست‘ کو رد کر دیں۔

نیتن یاہو گزشتہ 5 برس سے بدعنوانی کے 3 کیسز میں عدالت کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں رشوت، دھوکہ دہی اور اعتماد شکنی جیسے الزامات شامل ہیں۔

ایک کیس میں ان اور ان کی اہلیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے سیاسی فوائد کے بدلے ارب پتی افراد سے مہنگے تحائف وصول کیے۔

اگرچہ نیتن یاہو تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں، ان کے وکلا نے 111 صفحات پر مشتمل خط میں دعویٰ کیا ہے کہ عدالتی کارروائی بالآخر انہیں بری کر دے گی۔

مزید پڑھیں:اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا ’گریٹر اسرائیل‘ منصوبے کا ’تاریخی اور روحانی مشن‘ جاری رکھنے کا عزم

تاہم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ قومی مفاد اور سیاسی حالات اس مقدمے کے جاری رہنے کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ یہ سماجی تقسیم کو بڑھا رہا ہے۔

صدر کے دفتر نے معافی کی درخواست موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے سنگین مضمرات کی حامل غیر معمولی درخواست” قرار دیا ہے۔

ترجمان کے مطابق، وزیر اعظم نیتن یاہو کی اس درخواست پر تمام قانونی آرا حاصل کرنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

نیتن یاہو کو ملکی عدالتوں کے ساتھ ساتھ ہیگ کی بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹس کا بھی سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کا اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کیخلاف کرپشن مقدمہ ختم کرنے کا مطالبہ

جو انہیں غزہ کی جنگ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں مطلوب قرار دے چکی ہے۔

غزہ میں اس جنگ کے نتیجے میں 70 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اسرائیل میں عام طور پر معافی سزا کے بعد دی جاتی ہے، اس لیے نیتن یاہو کی قبل از سزا معافی کی درخواست نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اپوزیشن لیڈر یائر لاپید نے کہا کہ نیتن یاہو کو بغیر اعترافِ جرم اور سیاسی ریٹائرمنٹ کے معافی نہیں ملنی چاہیے۔

سابق جنرل یائر گولان نے انہیں فوراً مستعفی ہونے کا مشورہ دیا، جبکہ اینٹی کرپشن تنظیموں نے خبردار کیا کہ ایسا فیصلہ قانون کی بالادستی کے لیے سنگین دھچکا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ہرزوگ اعتماد شکنی بدعنوانی بنانا ری پبلک تل ابیب دھوکہ دہی رشوت علامتی گرفتاری معافی نارنجی لباس نیتن یاہو

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ہرزوگ بدعنوانی بنانا ری پبلک تل ابیب دھوکہ دہی رشوت علامتی گرفتاری معافی نیتن یاہو نیتن یاہو کی معافی کی کے خلاف

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل