سٹی42:  عمران خان کے مقرر کردہ وزیراعلیٰ کو آج "احتجاج کا اونٹ" لے کر پہاڑ نے نیچے آنے کا چیلنج درپیش ہے۔ خیبر پختونخوا کی پولیس وزیراعلیٰ کے احتجاج کرنے والے جتھے کی حفاظت کرنے کے لئے اس کے ساتھ پنجاب نہیں آئے گی۔

پشاور ہائی کورٹ نے آج حکم جاری کیا کہ کوئی سرکاری ادارہ  پی ٹی آئی حکومت کی سیاسی سرگرمی میں استعمال نہیں ہو گا اور کسی ادارہ کے وسائل کو سیاسی سرگرمی میں استعمال نہیں کیا جائے گا۔  پشاور ہائی کورٹ کے اس واضح حکم کے بعد خیبر پختونخوا پولیس کے انسپکٹر جنرل  ذوالفقار حمیدنے  اپنی فورس کو خصوصی ہدایت جاری کر دی ہے جس نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو سنگین نوعیت کے امتحان سے دوچار کر دیا ہے جنہوں نے آج منگل کے روز راولپنڈی میں اڈیالہ جیلل پر دھاوا بولنے کے لئے صوبے کے تمام گاؤں سے کارکن اور حامی بلوا رکھے ہیں۔

لکی مروت: پولیس موبائل پر خودکش حملہ، ایک اہلکار شہید، 6 زخمی 

خیبرپختونخوا  پولیس کے انسپکٹر جنرل نے آج شام پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اپنی فورس کے لئے ہدایات جاری کر دیں۔

آئی جی خیبر پختونخوا نے ہدایت کی ہے کہ پولیس اہلکار صرف خیبر پختونخوا کے جغرافیائی دائرہ اختیار میں ہی فرائض انجام دے گی۔

آئی جی نے اپنی فورس کے دوسرے صوبوں یا علاقوں میں بلا اجازت ڈیوٹی پر جانے پر پابندی لگا دی ہے۔

ذوالفقار حمید نے پولیس فورس کو پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کا حکم دیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے اختیارات صوبے تک محدود  ہیں۔

لکی مروت: پولیس موبائل پر خودکش حملہ، ایک اہلکار شہید

آئی جی نے آج تمام ذیلی دفاتر کو بھیجے گئے مراسلہ مین واضح کیا ہے کہ قانونی دائرہ اختیار سے باہر کسی بھی کارروائی کو غیرقانونی سمجھا جائے گا۔

انسپکٹر جنرل ذوالفقار حمید نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا عندیہ دیا۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: پشاور ہائی کورٹ خیبر پختونخوا

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار