امریکی ایوانِ نمائندگان کے 44 ڈیموکریٹک اراکین نے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو خط لکھ کر پاکستان میں ’جبر کی بڑھتی ہوئی مہم اور انسانی حقوق کے بگڑتے ہوئے بحران‘ کے باعث سینیئر پاکستانی حکام پر فوری پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نجی اخبار میں شائع رپورٹ کےمطابق اس کوشش کی قیادت ڈیموکریٹک خاتون کانگریس پرمیلا جیبال اور کانگریس مین گریگ کیزار کر رہے ہیں، جبکہ خط پر اِلہان عمر اور رشیدہ طلیب سمیت متعدد اراکین کے دستخط شامل ہیں، جو فلسطینی اور دیگر مسلم مسائل پر اپنی سرگرمی کے لیے مشہور ہیں۔

بدھ کو منظرِ عام پر آنے والے اس خط میں اُن پاکستانی حکام پر ویزا پابندیوں اور اثاثوں کے منجمد کیے جانے جیسے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے جو پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرنے والے امریکی شہریوں، رہائشیوں، اور ان کے پاکستان میں موجود اہلِ خانہ کو دھمکانے یا ہراساں کرنے میں ملوث ہیں۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ یا واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے ابھی تک کوئی فوری ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے ہمدرد کے طور پر مشہور حقوقِ انسانی کے گروپ فرسٹ پاکستان گلوبل نے یہ خط میڈیا میں جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس میں واشنگٹن پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرے جو ’ریاستی طاقت کو سیاسی مخالفین کو قید کرنے، بیرون ملک شہریوں کو خوفزدہ کرنے اور جمہوری آزادیوں کو کچلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں’۔

خط میں کہا گیا کہ ’گزشتہ برسوں میں پاکستان میں آمرانہ زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے امریکی شہریوں اور رہائشیوں کو دھمکیوں، خوفزدہ کرنے اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اور اکثر یہ جبر ان کے پاکستان میں موجود اہلِ خانہ تک پھیل جاتا ہے، ان طریقوں میں من مانی گرفتاری، دباؤ ڈالنا، اور انتقامی تشدد شامل ہیں، جن کا نشانہ تارکینِ وطن افراد اور ان کے عزیز بنائے جاتے ہیں‘۔

اراکینِ کانگریس نے خبردار کیا کہ پاکستان ایک گہرے ہوتے آمرانہ بحران کی لپیٹ میں ہے، مخالف سیاسی رہنماؤں کو بغیر الزام کے حراست میں رکھا جا رہا ہے، صحافیوں کو دھمکایا یا جلا وطن ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور عام شہریوں کو سوشل میڈیا سرگرمی پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔

خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خواتین، مذہبی اقلیتیں اور خصوصاً بلوچستان کی نسلی برادریاں عدم تناسب کے ساتھ ریاستی جبر کا نشانہ بن رہی ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا کہ ’یہ آمرانہ نظام پاکستان میں مسلسل جبر کے ذریعے قائم ہے، سیاسی مخالفین کو بغیر الزام کے قید رکھا جاتا ہے، انہیں منصفانہ ٹرائل نہیں دیا جاتا اور طویل عرصے تک قبل از سماعت حراست میں رکھا جاتا ہے، آزاد صحافیوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، اغوا کیا جاتا ہے یا ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے، عام شہریوں کو سوشل میڈیا پوسٹس پر گرفتار کیا جاتا ہے جبکہ خواتین، مذہبی اقلیتیں اور پسماندہ نسلی گروہ، خصوصاً بلوچستان میں زیادہ تشدد اور نگرانی کا نشانہ بنتے ہیں‘۔

اراکین نے مخصوص کیسز کا حوالہ بھی دیا، جن میں ورجینیا کے تحقیقاتی صحافی احمد نورانی کا کیس شامل ہے، جن کے بھائی مبینہ طور پر فوجی بدعنوانی کے بارے میں اُن کی رپورٹنگ کے بعد ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک اغوا اور حراست میں رکھے گئے۔

خط میں 2024 کے انتخابات کے بارے میں بھی تشویش ظاہر کی گئی، اور کہا گیا کہ غیرجانبدار مبصرین کی رپورٹس نے بدعنوانیوں کی نشاندہی کی ہے۔

اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ بھی ان بے ضابطگیوں پر تشویش ظاہر کر چکا ہے اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کر چکا ہے۔

خط میں امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ منظم اور سرحد پار جبر میں قابلِ اعتبار طور پر ملوث حکام کے خلاف عالمی میگنیٹسکی پابندیاں، ویزا پابندیاں، اور اثاثوں کے منجمد کیے جانے جیسے اقدامات نافذ کرے۔

خط میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

اراکین کا کہنا تھا کہ ’ایسے اقدامات انسانی حقوق کے لیے امریکی عزم کو مضبوط کریں گے، امریکی شہریوں کو سرحد پار جبر سے تحفظ دیں گے، اور علاقائی استحکام کو فروغ دیں گے‘۔

اپنی نگرانی کو مؤثر بنانے کے لیے اراکین نے محکمہ خارجہ کو پابندیوں، ٹارگٹڈ اقدامات کی شرائط، اور امریکی رہائشیوں کے اہلِ خانہ کو بیرونِ ملک لاحق خطرات سے بچانے کے اقدامات سے متعلق 5 تفصیلی سوالات بھیجے ہیں، انہوں نے وزیر خارجہ مارکو روبیو سے 17 دسمبر 2025 تک جواب طلب کیا ہے۔

سال کے اوائل میں ایوان میں 50 سے زیادہ اراکین نے ایک اور قرار داد ’پاکستان فریڈم اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ‘ پیش کی تھی، جس میں پاکستان میں جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی پابندیوں کی سفارش کی گئی تھی، یہ قرارداد ایچ آر 5271 فی الحال ایوان کی فارن افیئرز کمیٹی میں ووٹنگ کے لیے زیرِ التوا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستان میں کیا جاتا ہے اراکین نے کا مطالبہ شہریوں کو کیا گیا کے خلاف کے لیے گیا ہے اور ان

پڑھیں:

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔

دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔

قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔

تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟

اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا خراب کارکردگی کے حامل فیلڈ افسران کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کا حکم
  • بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟