صوابی: باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں خاتون کے ہاں بیک وقت چار بچوں کی پیدائش
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
صوابی کے باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں ایک خاتون کے ہاں بیک وقت چار بچوں کی پیدائش ہوئی، جس میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپتال کے ترجمان رحم خان نے بتایا کہ ماں اور بچے دونوں فی الحال صحت مند ہیں اور ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں۔
انچارج نیونٹل کیئر یونٹ ڈاکٹر عنایت اللہ نے کہا کہ چاروں بچوں کی پیدائش نارمل ڈیلیوری کے ذریعے ہوئی اور تمام بچے تندرست ہیں، یہ نوعیت کا نایاب موقع ہے، اور ماں کی صحت بھی اچھی ہے، جس سے اسپتال کے عملے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
چار بچوں کے والد مقصود علی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ساتھ چار بچوں کی پیدائش پر وہ بے حد خوش ہیں اور اسپتال کے انتظامیہ اور ڈاکٹرز کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں، یہ ان کے لیے زندگی کا سب سے خوشگوار لمحہ ہے۔
ترجمان رحم خان نے مزید بتایا کہ بچوں کے والدین کا تعلق قریبی گاؤں سلیم خان سے ہے اور مقامی کمیونٹی بھی اس نایاب موقع پر خوشی کا اظہار کر رہی ہے،وہ بچوں اور ماں کی صحت کے لیے مکمل دیکھ بھال کر رہی ہے اور والدین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ بیک وقت چار بچوں کی پیدائش نہ صرف اسپتال کے لیے باعث فخر ہے بلکہ صوابی کے لیے بھی ایک خوشی کا موقع ہے، جہاں یہ نایاب واقعہ لوگوں میں حیرت اور خوشی کا سبب بنا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چار بچوں کی پیدائش اسپتال کے کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
کوئٹہ:پی ڈی ایم اے نے بلوچستان میں مون سون کے دوران جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کردی، دوماہ کے دوران بارشوں کے باعث چار بچوں سمیت آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق کوہلو میں آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے مرد اور خاتون جان کی بازی ہارگئے، خضدار میں آسمانی بجلی اور چھت گرنے سے بچے سمیت دو افراد جاں بحق ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ژوب میں آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے تین بچوں سمیت چار افراد لقمہ اجل بن گئے، چھتیں گرنے سے 13 بچوں اور دو خواتین سمیت 16افراد زخمی ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث 41 گھروں کو نقصان پہنچا ان میں خضدار، ژوب، ہرنائی اور بارکھان میں 17گھر مکمل تباہ ہوگئے ہوگئے جب کہ 24 کو جزوی نقصان پہنچا۔