وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کے روز برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں پی ٹی آئی حکومت میں عمران خان کے سابق معاونِ خصوصی شہزاد اکبر اور یوٹیوبر عادل راجہ کی حوالگی کے کاغذات اُن کے حوالے کیے گئے۔

یہ پیش رفت اس اعلان کے چند روز بعد سامنے آئی ہے جس میں نقوی نے جعلی خبروں کے خلاف کریک ڈاؤن اور اس سرگرمی میں ملوث برطانیہ میں مقیم یوٹیوبرز کو واپس لانے کا عندیہ دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:

وزارتِ داخلہ کے مطابق ملاقات میں پاک برطانیہ تعلقات، سیکیورٹی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی، سیکریٹری داخلہ محمد خرم آغا بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران برطانیہ میں غیرقانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کی واپسی سے متعلق معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

محسن نقوی نے ہائی کمشنر کو بتایا کہ شہزاد اکبراورعادل راجہ پاکستان کو مطلوب ہیں اوران کی فوری حوالگی ضروری ہے۔

مزید پڑھیں:

وزیرِ داخلہ نے بیرونِ ملک بیٹھ کر ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے شہریوں کے بارے میں بھی شواہد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار اپنی جگہ لیکن جعلی خبریں ہر ملک کے لیے مسئلہ بنتی ہیں۔

نقوی کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک بیرونِ ملک سے ریاستی اداروں کے خلاف بدنامی اور بہتان کی اجازت نہیں دے سکتا، اور پاکستان برطانوی تعاون کا خیرمقدم کرے گا۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق حوالگی کے لیے باضابطہ کارروائی وزارتِ خارجہ کے ذریعے شروع کر دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:

دوسری جانب شہزاد اکبر نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریروں اور تبصروں نے حکومت کو ناراض کیا ہے، انہوں نے ایک بار پھر الزام لگایا کہ ان کے اہلِ خانہ کو پاکستان میں اغوا کیا گیا اور برطانیہ میں ان پر تیزاب حملہ بھی ہوا۔

عادل راجہ نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی شکایات بے بنیاد ہیں۔ یاد رہے کہ لندن کی ہائیکورٹ انہیں ایک سابق پاکستانی انٹیلیجنس افسر کے خلاف بے بنیاد الزامات پر ساڑھے 3 لاکھ پاؤنڈز ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شہزاد اکبر عادل راجہ محسن نقوی وزیر داخلہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شہزاد اکبر محسن نقوی وزیر داخلہ شہزاد اکبر کے خلاف

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ

 ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ